خطبات محمود (جلد 33) — Page 309
خطبات محمود 309 1952ء میں نے اب مکان بدلا تو میں لاہور گیا اور میں نے چاہا کہ بعض وہ چیزیں خریدوں جو قادیان میں ہمارے گھروں میں ہوتی تھیں۔ لیکن دکاندار کہنے لگا اب فیشن بدل گیا ہے وہ چیزیں اب نہیں مل سکتیں ۔ گویا آج سے پانچ سات سال قبل جو چیزیں قادیان میں ہمارے استعمال میں : آتی تھیں آج بازار میں نہیں ملتیں۔ ان کی جگہ نئی چیزوں نے لے لی ہے۔ میں نے دکاندارت کہا پرانی فہرست ہی دکھا دو تو وہ کہنے لگا پرانی فہرست کون رکھتا ہے ۔ اب نئی فہرستیں ہیں ، نئی چیزیں ہیں ۔ پس آج کل کی ہر چیز بدلتی ہے ۔ لیکن ہمارا پرانا طریق برابر قائم ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پرانے لوگ ہر چیز میں سوچ سمجھ کر اور آہستہ آہستہ تغیر کرتے تھے۔ لیکن آج کل محض فیشن کے ہر بدلنے پر چیزیں بدل جاتی ہیں ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تغیر واقع ہونا ایک لازمی چیز ہے اور اس کے بغیر دنیا قائم نہیں رہ سکتی ۔ لیکن اندھا دھند تغیر پیدا کرنا تباہی کا موجب ہوتا ہے۔ جس طرح یہ بات خطرناک ہے کہ جو بات حضرت امام ابو حنیفہ آج سے بارہ سوسال پہلے کہہ گئے تھے وہ نہیں بدلے گی ، جس طرح یہ بات خطرناک ہے کہ امام شافعی بارہ پونے بارہ سو سال پہلے جو بات کہہ گئے تھے وہ نہیں بدلے گی یا امام احمد بن حنبل بارہ ساڑھے بارہ سو سال پہلے جو بات کہہ گئے تھے وہ نہیں بدلے گی ۔ اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ خطر ناک بات یہ ہے کہ ایک شخص قرآن اور حدیث کو پوری طرح سمجھتا نہ ہو اور وہ نئے نئے مسائل نکالتا رہے۔ تغیر چاہے کتنا ہی قلیل ہو بڑے تجربہ غور و فکر کے بعد کرنا چاہیے ۔ مگر اس زمانہ میں مذہب میں اسی طرح دست درازی ہو رہی ہے کہ لوگ نئے نئے مسائل مذہب میں داخل کر رہے ہیں اور انہیں یہ بھی محسوس نہیں ہوتا کہ یہ کتنی شرم کی بات ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک دوست مہر نبی بخش صاحب تھے ۔ وہ بٹالہ کے رہنے والے تھے۔ بعد میں احمدی ہوئے اور نہایت مخلص احمدی ہوئے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ مسئلہ نکالا کہ عربی زبان ام الالسنہ ہے ۔ یعنی سب زبانیں اسی سے نکلی ہیں ۔ مہر نبی بخش صاحب نے اس مسئلہ کو لے لیا اور اسی کام میں مشغول ہو گئے کہ ہر لفظ کا عربی زبان سے نکلا ہوا ثابت کریں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام تو لغت کے واقف تھے، صرف ونحو کے واقف تھے، زبان کے واقف تھے ۔ آپ جو مسئلہ نکالتے تھے علم کی بناء پر