خطبات محمود (جلد 33) — Page 302
1952ء 302 (35 خطبات محمود غور و فکر کی عادت ڈالو کہ انسان کا بہترین استاد اس کا اپنا نفس ہوتا ہے ( فرموده 24 اکتوبر 1952ء بمقام ربوہ ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: آج ایک مہمان پروفیسر امریکہ سے آئے ہوئے تھے جس کی وجہ سے کھانا وغیرہ میں دیر ہو گئی اور اب صرف اتنا وقت ہے کہ پانچ سات منٹ ہی خطبہ ہو سکتا ہے۔ یوں میرے گلے میں بھی تکلیف ہے اور میں زیادہ دیر تک بول نہیں سکتا ۔ بہر حال خطبہ پانچ منٹ چھوڑ ایک منٹ کا بھی ہو سکتا ہے ۔ اہلِ حدیث عام طور پر کہا کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ جمعہ آپ کی نماز سے چھوٹا ہوا کرتا تھا اس لئے سنت یہی ہے کہ خطبہ نماز سے چھوٹا ہو ۔ ہم لوگ جو بڑے لمبے خطبوں کے عادی ہوتے ہیں انہیں یہ جواب دیا کرتے ہیں کہ اُس وقت کے لوگوں کے دل کھلے ہوتے تھے اور وہ چھوٹی سی بات سن کر بھی اسے مان لیتے تھے لیکن آج کل کے لوگوں کے دل کھلے نہیں اور انہیں مار مار کر بات سمجھانی پڑتی ہے۔ بہر حال خطبہ کی اصل غرض یہی ہے کہ انسان کو اپنے فرائض اور اسلام کی ضرورتوں کو سمجھنے کی طرف توجہ پیدا ہو ۔ اگر لوگ اپنے فرائض سمجھنے لگ جائیں ، اسلام کی ضرورتوں کو سمجھنے لگ جائیں تو باقی کام بہت چھوٹا سا رہ جاتا ہے ۔ ہے۔ اجنبی جس شخص کے دل میں محبت ہوتی ہے اسے اپنی ذمہ داری کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔ ایک ا شخص کسی بیمار کو دیکھتا ہے تو وہ اس کی طرف توجہ نہیں کرتا ۔ زیادہ سے زیادہ اسے گرا ہوا دیکھ کر کہہ