خطبات محمود (جلد 33) — Page 303
1952 303 خطبات محمود دیتا ہے کہ میاں اٹھو! اگر وہ نہیں اٹھتا تو اُسے چھوڑ کر آگے چل پڑتا ہے۔لیکن ایک ماں کے دل کی میں بچے کی محبت ہوتی ہے۔اس کے بچے کے منہ کا رنگ ذرا سا بھوسلا نظر آئے تو وہ ہزاروں طبیبوں کے نام سوچتی ہے، وہ ہزاروں علاج سوچتی ہے ، وہ ہزاروں نسخے نکالتی ہے اور اس کے دماغ میں علوم کا ایک چشمہ پھوٹ پڑتا ہے۔پس اصل چیز غور وفکر کی عادت ہوتی ہے۔اگر مومن اپنے اندر سوچنے کی عادت پیدا کر لیں ، اگر وہ اپنی ذمہ داریوں پر غور کریں جو عام لوگ نہیں کرتے تو کام بہت چھوٹا رہ جاتا ہے۔سب سے زیادہ غور کرنے کا موقع ہماری جماعت کے لئے ہے لیکن افسوس کہ ہماری جماعت بھی غور کرنے کی عادی نہیں۔بہت کم لوگ ایسے ہیں جو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہیں ، جو اسلام کی ضرورتوں کو سمجھتے ہیں اور ان پر غور کرتے ہیں۔اکثر لوگ ایسے ہیں جو چاہتے ہیں کہ پکی پکائی کی روٹی ان کے آگے رکھ دی جائے۔اکثر لوگ جب مجھے ملنے آتے ہیں تو کہتے ہیں حضور کوئی نصیحت فرمائیں۔میں انہیں کہتا ہوں نصیحت کی کیا ضرورت ہے۔آپ لوگوں کو علم ہے کہ سارے لوگ آپ کے دشمن ہیں۔مجھے تو لوگ صرف گالیاں دیتے ہیں لیکن آپ اُن کے پاس ہوتے ہیں وہ آپ کو مارتے ہیں قتل کی دھمکیاں دیتے ہیں۔آپ کو اپنے حالات معلوم ہیں آپ اپنے متعلق خود سوچا کریں۔اگر آپ سوچیں گے نہیں تو میری نصیحت کیا کام دے گی۔ملتان ہنٹنگمری ، شیخو پورہ یا سرگودھا میں کوئی جھگڑا ہوتا ہے تو لوگ دوڑ کر میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیں کوئی نصیحت فرمائیے۔میں انہیں یہی کہتا ہوں کہ آپ کو اپنے حالات معلوم ہیں میں کیا نصیحت کروں۔پس غور کی عادت ڈالو۔مگر غور بھی ایک حد تک ہونا چاہیے۔مجھے ایک احمدی کا لطیفہ یاد ہے اور میں نے دوستوں کو پہلے بھی ایک دفعہ وہ لطیفہ سنایا ہے۔ہم ایک گاؤں میں گئے۔وہاں آٹا نہیں ملتا تھا ہم مقامی احمدیوں سے آٹا پسواتے تھے۔کسی احمدی نے ایک پاؤ آٹا پیس دیا ، کسی نے آدھ سیر آٹا پیس دیا اور کسی نے سیر بھر آٹا پیس دیا۔میرے پاس مہمان کثرت سے آتے تھے اور زیادہ آٹا کی ضرورت تھی۔کئی دفعہ 15، 20 سیر آٹے کی ایک وقت میں ضرورت ہوتی تھی اور احمدی عورتوں کو آٹا پینے کی تکلیف محسوس ہوتی تھی۔وہاں پن چکیاں تھیں میں نے کہا دو تین بوری کی گندم آٹا پسوا لو۔چنانچہ ایک احمدی دوست کو بلایا گیا اور انہیں کہا گیا کہ دو بوری گندم لے جاؤ