خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 282

1952 282 خطبات محمود اور وہ اس معیارِ ایمان اور میعار تقویٰ کو قائم رکھتی ہیں۔جس کو قائم رکھنا خدا تعالیٰ کا منشاء ہے اور جس معیارِ ایمان اور میعار تقویٰ کے قیام کے لئے خدا تعالیٰ کے انبیاء دنیا میں آتے ہیں۔پس ہمیشہ ہی خدا ئی جماعتوں اور خدائی سلسلوں کو یہ امر مد نظر رکھنا چاہیے کہ اُن کے اندر زندگی کی روح پیدا ہو۔اُن کے اندر ایسے نوجوان پیدا ہوں جو دین کی خاطر اپنے آپ کو وقف کرنے والے اور تقویٰ کے ساتھ کام کرنے والے ہوں۔دھڑے بازی کی عادت اُن میں نہ ہو۔وہ قضاء کے مقام پر پورے اُترنے والے ہوں اور دوسروں کا حق دینے کے معاملہ میں نہ دشمنی اُن کے راستہ میں روک ہو، نہ دوستی اُن میں جنبہ داری کا مادہ پیدا کرنے والی ہو۔جب اُن سے کوئی تھی مسئلہ پوچھے تو وہ یہ نہ دیکھیں کہ ہماری دوستیاں کن لوگوں سے ہیں اور ہمارے اس جواب کا اثر ان پر کیا پڑے گا۔بلکہ وہ صرف یہ دیکھیں کہ خدا اور اس کے رسول نے کیا کہا ہے اور قرآن میں کی کیا لکھا ہے۔جب ایسے آدمی کسی قوم میں پیدا ہو جائیں تو پھر وہ قوم آدمیوں کی محتاج نہیں رہتی بلکه براه راست خدائی نصرت کے نیچے آجاتی ہے۔کسی انسان کی موت سے اُس کی موت وابستہ نہیں ہوتی۔کسی انسان کی بیماری سے اُس کی بیماری وابستہ نہیں ہوتی۔کسی انسان کے فقدان سے کی اُس کا فقدان وابستہ نہیں ہوتا۔وہ ہر میدان میں اور ہر قسم کے کاموں اور مقابلوں میں قائم رہتی ہے۔جیتی ہے اور بڑھتی ہے کیونکہ اُس میں زندگی کا بیج ہوتا ہے۔اور جس میں زندگی کا بیج ہوتی اُسے کوئی مار نہیں سکتا۔جس طرح خدا نے جس میں موت کا بیج پیدا کر دیا ہوا سے کوئی زندہ نہیں الفضل 26 ستمبر 1952ء) رکھ سکتا۔“ 1 : النساء:2