خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 278

1952ء 278 31 خطبات محمود زندہ قوموں کی علامت یہ ہوتی ہے کہ اس کے نوجوان اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ وہ اپنے بڑوں کے قائم مقام بن جائیں (فرمودہ 19 ستمبر 1952ء بمقام ربوہ ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: وو پچھلے ہفتہ سے یعنی جمعرات کے دن سے یا شاید بدھ کے دن سے پھر مجھ پر نقرس کا حملہ ہوا۔ جس کی وجہ سے میں نمازوں میں نہیں آسکا لیکن کل سے خدا تعالیٰ کے فضل سے درد سے افاقہ ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی میں نے بیان کیا تھا اس دفعہ نقرس کے حملے پہلے حملوں کے مقابلہ میں بہت ہلکے ہوئے ہیں ۔ یہ حملہ بھی اتنا تو تھا کہ میں باہر نہیں جا سکتا تھا ، سیڑھیاں اتر چڑھ نہیں سکتا تھا لیکن پھر بھی جو پہلے حملے ہوتے رہے ہیں اُن کے مقابلہ میں اس کی کوئی نسبت ہی نہیں تھی ۔ وہ بہت زیادہ شدید ہوتے تھے اور بسا اوقات میں بستر پر کروٹ بھی خود بدل نہیں سکتا تھا۔ لیکن موجودہ حملہ میں میں برآمدہ میں بیٹھ کر ملاقاتیں بھی کر لیتا تھا ، پیشاب پاخانہ کے لئے بھی جا سکتا تھا اور ایک کمرہ سے دوسرے کمرہ میں بھی آجا سکتا تھا۔ صرف نیچے اوپر آنا یا زیادہ دیر تک پاؤں لٹکا کر بیٹھنا یا کھڑے ہونا مشکل تھا۔ اس دوران میں ایک تکلیف میرے بازو میں بھی ہوئی جس کی وجہ سے دوستوں کو بھی تکلیف ہوئی اور کچھ غلط فہمی بھی ہوئی۔ گو ایک لحاظ سے وہ غلط فہمی بھی نہیں تھی ۔ بہت سی چیزیں سرحد پر ہوتی ہیں ۔ ذرا ادھر ہو جائیں تو اور شکل اختیار کر لیتی ہیں ۔ اور ذرا اُدھر ہو جائیں تو اور شکل اختیار کر لیتی ہیں بہر حال پچھلے چند دنوں میں میرے ہاتھ میں یکدم ایسی