خطبات محمود (جلد 33) — Page 270
1952ء 270 خطبات محمود نے فرمایا يَا عَائِشَة تِلْكَ بِتِلْكَ عائشہ ! اُس ہار کے بدلہ میں یہ ہا ر ہو گئی 2 ۔ غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے ساتھ پھرنا معیوب خیال نہیں فرماتے تھے اور جس بات کی اجازت اسلام نے دی ہے اُس کو عیب نہیں کہا جا سکتا ۔ پس اگر کوئی شخص کسی دوسرے پر اعتراض کرتا ہے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ اس کے نزدیک شخص کسی دوسرے پر اعتراض کرتا ہے تو و شخص اسلامی تعلیم پر عمل نہیں کرتا۔ لیکن شکایت کرنے والے نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ فلاں چھوٹے درجہ کا ہے، فلاں کمینہ ہے۔ اور بعض الزامات ایسے لگائے ہیں جس کے متعلق شریعت نے گواہ طلب کئے ہیں اور گواہ بھی ننگی رؤیت کے طلب کئے ہیں۔ یعنی شریعت اس کے متعلق یہ کہتی ہے کہ تنگی رؤیت کے چار گواہ ہوں ۔ گو وہ شخص شکایت کرنے میں حق پر ہے ورنہ نہیں ۔ لیکن عجب بات یہ ہے کہ دین کی غیرت ایسے شخص کو پیدا ہوئی ہے جو خود قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف عمل کرتا ہے اور دوسروں پر ایسے الزامات لگاتا ہے جن سے قرآن کریم نے منع فرمایا ہے۔ اور نہ صرف منع فرمایا ہے بلکہ ان پر حد مقرر کی ہے کہ ایسا کہنے والے کو 80 کوڑے لگاؤ 3 ۔ گویا شریعت نے اس بارہ میں جو اتنا شدید حکم دیا ہے وہ اُسے توڑتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں شخص قرآنی تعلیم کے خلاف چلتا ہے حالانکہ وہ خود قرآنی تعلیم کے خلاف چل رہا ہوتا ہے۔ اب دیکھو اس شکایت نے والے کی حیثیت کیا ہوئی ؟ پہلے تو اُس نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا ۔ پھر جو ثبوت ضروری ہیں وہ پیش نہیں کئے ۔ شریعت کے قواعد سے نہ تو میں آزاد ہوں نہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آزاد ہیں اور نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آزاد ہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود شریعت کے قواعد پر چلنے کے لئے مجبور تھے۔ پس اس شخص نے بعض ایسے اعتراضات کئے ہیں جن پر شریعت حد لگاتی ہے اور شریعت نے ان کے لئے گواہی کا جو طریق مقرر کیا ہے اُس طریق پر چلنا ضروری ہے۔ لیکن وہ کہتا ہے کہ فلاں نے قرآن کریم کا فلاں حکم توڑا ہے اُسے سزا دو لیکن مجھے کچھ نہ کہو۔ کرنے مجھے بچپن کا ایک لطیفہ یاد ہے ۔ اُس وقت میں نے اس سے بہت مزا اٹھایا تھا اور اب بھی وہ مجھے یاد آتا ہے تو ہنسی آجاتی ہے۔ پانچویں یا چھٹی جماعت میں میں پڑھتا تھا۔ ہمارے اُستاد نے یہ طریق مقرر کیا ہوا تھا کہ اُن کے سوال کا جواب جو طالب علم وقت مقررہ میں دے دے وہ اُوپر کے نمبر پر آجائے گا ۔ ہم کھڑے تھے، اُستاد نے سوال کیا ، ایک لڑکے نے اس کا جواب دیا۔ دوسرے نے ہاتھ بڑھا کر کہا ماسٹر جی ! یہ جواب غلط ہے ۔ ماسٹر صاحب نے پہلے لڑکے سے کہا تم