خطبات محمود (جلد 33) — Page 271
1952 271 خطبات محمود نیچے آ جاؤ اور دوسرے کو کہا تم اوپر چلے جاؤ۔نیچے آتے ہی اُس لڑکے نے جو پہلے اوپر کے نمبر پر کی تھا کہا کہ مولوی صاحب ! اس نے میری غلطی نکالتے ہوۓ غَلَط لفظ کو غلط کہا ہے جو غلط ہے۔اس اُستاد نے پھر اُسے سابق جگہ پر کھڑا کر دیا اور دوسرے لڑکے کو پھر نیچے گرا دیا۔یہی حالت بعض معترضوں کی ہوتی ہے۔وہ دوسرے پر غلط یا صحیح اعتراض کرتے ہیں لیکن اعتراض کا طریقہ مجرمانہ اختیار کرتے ہیں اور اس طرح اُس کو سزا دلاتے دلاتے خود سزا کے مستحق ہو جاتے ہیں۔اور پھر شور مچاتے ہیں کہ مجرم کو کوئی نہیں پکڑتا جو توجہ دلاتا ہے اُسے سزا دیتے ہیں۔حالانکہ سزا دینے والے کیا کریں وہ بھی تو شریعت کے غلام ہیں۔اگر تم قرآن کریم کی حکومت کو قائم کرنا چاہتے ہو تو اپنے پر بھی خدا تعالیٰ کی حکومت کو قائم کرو۔اگر تم یہ چاہتے ہو کہ دوسروں پر تو خدا تعالیٰ کی حکومت قائم ہو اور تم پر خدا تعالیٰ کی حکومت قائم نہ ہو تو یہ درست بات نہیں۔میں شکایت کرنے والے سے کہتا ہوں۔ایاز قدرے خود بشناس۔تمہاری حیثیت ہی کی کیا ہے تم تو اپنا نام بھی چھپاتے ہو اور جب تم اپنا نام چھپاتے ہو تو دنیا تمہاری بات کیوں مانے۔خدا تعالیٰ مالک ہے، وہ سب کا آقا ہے، سب کی پیدائش اور موت اُس کے اختیار میں ہے ، وہ تی سب کو رزق دیتا ہے ، سب پر اُس کا احسان ہے۔اس کی بات تو مانی جائے گی تمہاری بات کیوں مانی جائے۔تم اگر چاہتے ہو کہ دوسروں کو شریعت کے احکام کے مطابق سزا دی جائے تو تم اقرار کرتے ہو کہ تمہیں بھی شریعت کے احکام کے ماتحت سزادی جائے۔پھر جب تم دوسروں پر الزام لگاتے ہو اور اس کا جائز اور شرعی ثبوت نہیں دیتے تو کیوں نہ تم کو سزا دی جائے۔باقی اگر کوئی کہے کہ تم میری بات مان لو تو یہ درست بات نہیں۔شریعت کے مطابق جو گواہ اور ثبوت ضروری ہیں وہ مہیا کرنے بہر حال ضروری ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دفعہ دو جھگڑنے والے آئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خدا تعالیٰ نے مجھے کہا ہے کہ میں تم میں سے ایک فریق کو قسم دوں۔اس پر الزام لگانے والے نے کہا اگر آپ نے قسم دی اور اس پر فیصلہ دے دیا تو یہ مقدمہ جیت گیا۔یہ تو سو جھوٹی قسمیں بھی کھا سکتا ہے۔اس پر آپ نے فرمایا جو خدا تعالیٰ نے کہا ہے میں مانوں گا تمہاری بات نہیں مانوں گا۔اگر یہ جھوٹی قسم کھائے گا تو خدا تعالیٰ اسے خود سزا دے گا۔پس بعض لوگ تیز طبع ہوتے ہیں، ان میں جوش ہوتا ہے۔اس لئے وہ کہہ دیتے ہیں چونکہ