خطبات محمود (جلد 33) — Page 247
1952 247 خطبات محمود گیا ہے کہ ہم حکومت کے باغی ہیں۔ایک طرف باغی کہنا اور دوسری طرف خوشامدی کہنا دونوں کی چیزیں اکٹھی کیسے ہو سکتی ہیں۔لیکن لوگ اکثریت کے گھمنڈ میں سب کچھ کہہ لیا کرتے ہیں۔وہ مج طاقت کے گھمنڈ میں یہ خیال نہیں رکھتے کہ سچ کیا ہے۔لوگ اکثریت کے گھمنڈ میں بجائے دوسروں کے احساسات کا خیال رکھنے کے یہ کہتے ہیں کہ تم نے ہماری بات نہ مانی تو ہم ڈنڈا ماریں گے۔مثل مشہور ہے کہ کوئی بھیٹر یا ندی کے کنارے پانی پی رہا تھا۔ایک بکری کا بچہ آیا اور اس نے بھی پانی پینا شروع کر دیا۔بکری کا بچہ دیکھ کے بھیڑیے کے منہ میں پانی بھر آیا اور اس نے یہ چاہا کہ اُسے کھا لے۔انسانوں اور حیوانوں کے حالات ایک سے نہیں ہوتے۔انسان دلیل دیتا ہے لیکن ایک حیوان دلیل نہیں دیتا۔مثال میں چونکہ دلیل دی گئی ہے اس لئے یہاں بھیڑیے کی سے مراد وہ آدمی ہے جو بھیڑیے کے سے خصائل رکھتا ہو۔اور بکری کے بچہ سے وہ آدمی مراد ہے جو اس کے سے خصائل رکھتا ہو۔بہر حال بھیڑیے کو یہ لالچ پیدا ہوا کہ کسی نہ کسی طرح بکری کے بچہ کو کھا لے۔چنانچہ وہ بکری کے بچہ کو دیکھ کر کہنے لگا کہ تمہیں شرم نہیں آتی کہ تو میرا پانی گدلا کر رہا ہے؟ بکری کے بچہ نے کہا سر کا ر! یہ کون سی بات ہے۔آپ نے سوچا نہیں کہ آپ اوپر ہیں اور میں نیچے۔آپ کا پیا ہوا پانی میری طرف آرہا ہے نہ کہ میرا پیا ہوا پانی آپ کی طرف جا رہا ہے۔بھیڑیے نے آگے بڑھ کر بکری کے بچہ کو تھپڑ مارا اور اُسے مار دیا اور کہا نالائق ! آگے سے جواب دیتا ہے۔پس زبر دست کثرت پر گھمنڈ کرتا ہی ہے جیسے آج کل احراری اخبار آزاد، زمیندار اور آفاق کر رہے ہیں۔وہ کہیں گے اور ہم سنیں گے۔اور چونکہ ہم تھوڑے ہیں اس لئے ہم تھوڑے ہونے کی سزا بھگتیں گے یہاں تک کہ ہمارے خدا کی غیرت بھڑک اٹھے اور وہ ہمیں اقلیت - اکثریت میں تبدیل کر دے۔لیکن جب تک ہم تھوڑے ہیں ہمیں تھوڑے ہونے کی سزا بھگتنی پڑے گی ، ماریں کھانی پڑیں گے ، گالیاں سنی پڑیں گی۔کئی احمدی میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آخر ہم کب تک ان تکالیف کو برداشت کریں گے؟ میں انہیں یہی کہتا ہوں تم تھوڑے ہو اور جب تک تم تھوڑے ہو تمہیں تھوڑا ہونے کی کی سزا بھگتنی پڑے گی۔خدا تعالیٰ اگر تمہیں دکھوں میں مبتلا نہ کرنا چاہتا تو وہ تمہیں اقلیت میں نہ رہنے دیتا۔لیکن جس طرح کثرت ، دماغ میں غرور پیدا کر کے عقل مار دیتی ہے اسی طرح عشق بھی ایک کی عاشق صادق کے اندر کبریائی پیدا کر دیتا ہے۔مگر عشق ہمیشہ کبریائی کے نشہ میں آکر مرتا ہے، مارتا نی