خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 246

1952 246 خطبات محمود پس یہ ٹھیک ہے کہ جہاں تک ہم سمجھتے ہیں کہ آج کل کی متمدن دنیا میں کسی حکومت کے قوانین مذہب کے بارہ میں اس حد تک نہیں جایا کرتے کہ وہ ظالمانہ صورت اختیار کر جائیں۔بعض جگہوں پر حکومتیں ایک حد تک سختی کرتی ہیں مثلاً ساؤتھ افریقہ کی حکومت نے یہ قانون بنایا ہے کہ کالے گوروں سے الگ رہیں لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکتی کہ کالے ملک میں نہ رہیں۔اس نے یہ کہا ہے کہ گورے اور کالے ریلوں میں اکٹھے سفر نہ کریں۔لیکن اس نے یہ نہیں کہا کہ کالے سفر ہی نہ کریں۔اس نے یہ کہا ہے کہ گوروں کے ہسپتال میں کالے نہ جائیں۔لیکن اس نے یہ نہیں کہا کہ کالوں کا علاج ہی نہ ہو۔اس نے یہ کہا ہے کی کہ گورے اور کالے آپس میں شادی نہ کریں۔لیکن وہ یہ نہیں کہتی کہ کالے شادی ہی نہ کریں۔پس بعض ممالک میں بے شک سختیاں ہوتی ہیں مگر ایک حد تک۔لیکن دنیا چونکہ متمدن ہو چکی ہے اس لئے اب کوئی ایسی حکومت نہیں ہو سکتی جو کوئی ایسا قانون بنائے جو عقل کے خلاف ہو۔لیکن فرض کرو کہ اگر کوئی ایسی حکومت ہو جو عقل سے باہر جا کر ایسے قانون بنا سکتی ہو تو عاشق بھی عقل سے باہر جا کر اپنی جانوں کو شہادت کے لئے پیش کر سکتے ہیں اور یہ کوئی عجیب بات نہیں کی جس پر لوگوں کو حیرت ہو۔ہماری جماعت امن پسند جماعت ہے لیکن جن ملکوں میں احمدیوں کے لئے امن نہیں رہا وہاں ہم نے اپنے آپ کو بچایا نہیں۔کابل میں دیکھ لواحدی پتھر کھاتے گئے مگر مرتد نہیں ہوئے۔پس حکومت کی فرمانبرداری اور چیز ہے اور عقائد اور چیز ہیں۔متمدن دنیا افراد کے مذاہب میں دخل نہیں دیتی۔متمدن دنیا خریت ضمیر میں دخل نہیں دیتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تھے جہاں تک آئین کا سوال تھا آپ مکہ کی حکومت کے قانون کے پابند تھے اور کی حکومت کی اطاعت کرتے تھے۔لیکن آپ نے تبلیغ کو ترک نہیں کر دیا تھا۔سچ کو آپ نے ترک نہیں کر دیا تھا۔کسی کے کہنے پر آپ نے اپنا کام نہیں چھوڑ دیا تھا۔لیکن جہاں تک آئین ا قانون کا سوال تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکومت کے قوانین کی پابندی کی۔اور جہاں تک عقائد کا سوال تھا آپ نے اپنے آپ کو ان پر مضبوطی سے قائم رکھا۔حضرت مسیح علیہ السلام پر بھی ہماری طرح متضاد سوالات کئے جاتے تھے۔عوام الناس کے پاس کی جاتے تو کہتے کہ یہ حکومت کے خوشامدی ہیں اور حکومت کے پاس جاتے تو کہتے کہ یہ باغی ہیں۔ہمارے متعلق بھی یہی کہا جاتا ہے۔مخالفوں کی کتب میں وہ مضامین بھی موجود ہیں جن میں لکھا گیا کی ہے کہ ہم حکومت کے خوشامدی ہیں۔اور حکومت کے نام ایسے محضر نا مے بھی موجود ہیں جن میں کہا تھی