خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 245

1952ء 245 خطبات محمود پر کریں۔ کا ہے نام پر پابندی عائد کرنے پر اکتفاء کریں ۔ آج کل نظم و نسق اس قسم کا ہے کہ جب لوگ سوال کرتے ہیں تو اس سے کوئی چیز با ہر نہیں نکل سکتی ۔ یہ درست ہے کہ انسان اگر کرنے پر آئے تو کیا کچھ نہیں کر سکتا لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ جہاں ہم اس بات کو جائز سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی حکومت ایسا حکم دے جو افراد کے مذہب سے تعلق رکھتا ہو اور وہ ہماری اصولی چیزوں سے ٹکراتا سے نہ ہو تو ہم جماعت کو یہ تعلیم دیں گے کہ وہ حکومت کی اطاعت کرے۔ وہاں شریعت یہ بھی کہتی ہے ۔ کہ اگر تمہارے ایمان کا امتحان ہوا اور تمہارے سروں پر آرے رکھ کر تمہیں چیر دیا جائے تو تم آخر کا اور کر تک چر جاؤ لیکن ایمان کو ضائع نہ ہونے دو۔ پس جہاں یہ ٹھیک ہے کہ کوئی حکومت ایسی بھی ہو سکتی ہے جو اس قسم کے عقل کے خلاف احکام دے دے اور وہ افراد کے مذہب میں مداخلت کرے وہاں یہ بھی ٹھیک ہے کہ دنیا میں ایسے مست بھی ہو سکتے ہیں جو مذہب کے لئے جائز قربانیاں یہ کرتے چلے جائیں اور ایمان پر قائم رہیں ۔ جس شخص کو ہم نے مانا ہے اُس کا شعر ہے کوئے تو اگر سر عشاق رازنند در اول کسے کہ لاف تعشق زند منم 3 یعنی اگر تیرے کوچہ میں عشاق کے سروں کو کاٹنے کا حکم دے دیا جائے تو سب سے پہلے جو عشق کا شور مچائے گا وہ میں ہوں گا ۔ پس یہ ٹھیک ہے کہ بعض حکومتیں ایسا ظلم بھی کر سکتی ہیں جیسا کہ روس میں ہو رہا ہے کہ وہاں مذہب کو بالکل بیکار کر دیا گیا ہے ۔ اِسی طرح اور بھی ایسے ممالک ہو سکتے ہیں ۔ لیکن میرے خیال میں روس سے زیادہ ان میں مذہب پر پابندی نہیں ہو سکتی ۔ آجکل کی ظاہری روش اور جمہوری خیالات کے نتیجہ میں کوئی حکومت روس کا ساطریق اختیار نہیں کر سکتی اور کوئی قوم ایسی نہیں جو مذہب میں اس حد تک دخل دے ۔ پس عقلی بات تو یہی ہے کہ کوئی حکومت افراد کے مذہب میں دخل نہیں دے سکتی ۔ لیکن کوئی حکومت اگر عقل سے باہر جا کر ایسے قوانین بنادے جو مذہب میں روک پیدا کر دیں اور الفاظ کی تبدیلی سے کام نہ بنے تو ہم بھی کہیں گے کہ تم ہمیں گولی مار دو لیکن ہم اپنے اصول کو نہیں چھوڑیں گے۔ ہم مرتے جائیں گے لیکن صداقت کا انکار نہیں کریں گے ۔ موت سے زیادہ حقیر چیز اور ہے ہی کیا ؟ ساری چیزوں پر کچھ نہ کچھ خرچ ہوتا ہے ۔ دستخطوں کے لئے سیاہی لینے جائیں تو اس پر بھی دھیلا خرچ آجاتا ہے لیکن موت پر کچھ بھی خرچ نہیں ہوتا ۔ موت آخر آنی ہے۔ اور جو چیز ضرور آنی ہے اُس پر خرچ کیا آئے گا ؟