خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 238

1952ء 238 خطبات محمود جب تم ایک صداقت کی تائید کے لئے کھڑے ہوئے ہو اور تم نے مسلمانوں کے اندر بیداری پیدا ب تم ایک صداقت کی تائید کے لئے کرنے کی آواز کو جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بلند ہوئی ہے سنا ، یا مان لیا تو تمہیں لازماً اس بات کے لئے بھی تیار ہونا پڑے گا کہ لوگ تمہاری مخالفت کریں ، شورشیں برپا کریں اور تمہارے خلاف منصوبہ بازی کی جائے ۔ پس کون احمدی ہے جس کے حواس درست ہوں اور وہ یہ کہہ سکے اوہو! یہ کیسا فساد ہے۔ مجھے تو اس کی امید نہیں تھی ۔ حالانکہ جب وہ احمدی ہوا تھا تو یہ سمجھ کر ہوا تھا کہ لوگ اُس کے خلاف فساد کریں گے ، شورش کریں گے اور منصوبہ بازی کریں گے ۔ اس کا کام یہ ہے کہ ان فسادوں ، شورشوں اور منصوبہ بازیوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائے ۔ دیکھو رمضان کے مہینہ میں اپنی مرضی اور ارادے سے ایک پروگرام کے ماتحت انسان تکلیف اٹھاتا ہے۔ وہ رات کو اٹھتا ہے۔ بے شک وہ یہ تدبیر کر لیتا ہے کہ اگر گرمی ہو تو وہ ٹھنڈے پانی سے وضو کرے اور اگر سردی ہو تو وہ گرم پانی سے وضو کرے ، پھر اگر گرمی کا موسم ہو تو وہ چھت سے باہر تہجد کی نماز پڑھ لے اور اگر سردی ہو تو چھت کے نیچے تہجد کی نماز پڑھ لے یا گرم لباس پہن لے ۔ پھر اگر وہ بیمار ہے تو بیٹھ کر نماز پڑھ لے ۔ صحت اچھی نہیں ہے تو زیادہ عمدہ غذا کھالے یا اگر معدہ خراب ہے تو نرم غذا کھا لے۔ پیاس کے دن ہوں تو دو تین گلاس پانی کے اکٹھے پی لے یا چائے کی ایک پیالی پی لے تا تکلیف دور ہو۔ دن کو گرمی کی تکلیف ہو تو وہ سائے اور ٹھنڈک میں رہے تا گرمی کی شدت کم ہو ۔ مگر باوجود اس کے کہ رمضان میں تمہارے پاس ایسے ذرائع موجود ہوتے ہیں جن سے تم گرمی کی شدت کو کم کر سکتے ہو ۔ پھر بھی تمہاری تکلیف کو دیکھ کر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں میں دعائیں سننے کے لئے آسمان سے نیچے اُتر آتا ہوں اور کہتا ہے مجھ سے مانگو میں تمہیں دوں گا ۔ پس اگر خدا تعالیٰ روزہ میں جس کی تکلیف کم کی جاسکتی ہے، جس کے ضرر سے بچنے کے لئے تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں مومن کے لئے اتنی رعایت کرتا ہے کہ وہ کہتا ہے چونکہ تم تکلیف اٹھاتے ہو اس لئے میں تمہارے قریب ہو جاتا ہوں ۔ أَجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ -1 - میں اس پکارنے والے (یعنی روزہ دار ) کی آواز کو سنتا ہوں اور میں اس کی دعائیں قبول کرتا ہوں ۔ پھر ان تکالیف اور مصائب میں جو تمہارے اختیار میں نہیں جن کو کم کرنے کے لئے تم کوئی تدبیر نہیں کر سکتے ان میں وہ تمہارے کس قدر قریب ہو جائے گا۔ ظاہر ہے کہ اگر روزہ میں خدا تعالیٰ تمہارے لئے بے چین ہو جاتا ہے