خطبات محمود (جلد 33) — Page 237
1952 237 (27) خطبات محمود مشکلات و مصائب کا زمانہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے کا بہترین وقت ہوتا ہے فرموده یکم اگست 1952ء بمقام ربوہ ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ان ایام میں جو فتنہ پاکستان کے مختلف حصوں خصوصاً پنجاب کے مختلف مقامات میں پیدا ہورہا ہے اگر چہ حکومت کے بعض اعلانات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی رپورٹوں کے مطابق اس کی میں کمی آ رہی ہے لیکن جو ہماری اطلاعات ہیں اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں کمی نہیں آ رہی ہی بلکہ وہ اپنی جگہ بدل رہا ہے۔بعض جگہوں سے ہٹتا ہے اور پھر آگے بعض دوسری جگہوں کی طرف کی منتقل ہو جاتا ہے۔جہاں تک فتنہ کا سوال ہے میرے نزدیک کوئی اول درجہ کا ناواقف اور جاہل کی احمدی ہی ہو گا جو یہ کہے کہ یہ فتنہ ایسی چیز ہے جس کی مجھے امید نہیں تھی۔تم دریا میں گو دتے ہو اور کی بعد میں شکایت کرتے ہو کہ تمہارا جسم گیلا ہو گیا ہے یا تمہارے کپڑے گیلے ہو گئے ہیں۔تم آگ میں ہاتھ ڈالتے ہو اور کہتے ہو میری انگلی جل گئی ہے۔یا تم دھوپ میں بیٹھتے ہو اور کہتے ہو مجھے گرمی لگتی ہے۔یا تم برف پیتے ہو اور کہتے ہو مجھے ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے تو یہ کوئی عقل کی دلیل نہیں۔تم برف پیتے ہو تو یہ سمجھ کر پیتے ہو کہ تمہیں ٹھنڈک لگے گی۔تم دھوپ میں بیٹھتے ہو تو یہ سمجھ کر بیٹھتے ہو کہ تمہیں گرمی لگے گی۔تم آگ میں ہاتھ ڈالتے ہو تو یہ سمجھ کر ہاتھ ڈالتے ہو کہ تمہارا جسم جل جائے گا۔یا تم دریا میں گو دتے ہو تو تم یہ جانتے ہوئے گو دتے ہو کہ تمہارا جسم گیلا ہو گا۔پس ج