خطبات محمود (جلد 33) — Page 229
1952 229 خطبات محمود مجھ سے دریافت کیا کہ کیا آپ کا ایسا خیال ہے؟ اس کا جواب جو انہوں نے میری طرف منسوب کر کے شائع کیا ہے وہ صحیح ہے۔میں نے کہا میرے خیال میں ایسا نہیں اور نہ کوئی عقلمند ایسا خیال کرسکتا ہے۔ہماری جماعت اتنی چھوٹی ہے کہ سینکڑوں میں سے ایک احمدی ہے۔اگر احمدی حملہ کر کے کراچی کے دفاتر پر قبضہ بھی کر لیں تو وہ کتنے دنوں تک اس قبضہ کو قائم رکھ سکیں گے۔اکثریت کے پاس اسلحہ ہے، فوج ہے۔اگر احمدی ایسی حماقت کریں گے تو وہ چند منٹ میں ختم ہو جائیں گے۔اور وہ کون سا احمدی ہو گا جو ایسا کرے۔یہ تو ہماری حماقت کی علامت ہوگی کہ ہم ایسا کام کریں جو ایک جاہل سے جاہل شخص بھی نہیں کر سکتا۔دراصل ان کی غرض تھی کہ عوام الناس کے شبہات دور ہو جائیں اور ان پر واضح ہو جائے کہ احمدی حکومت پر قبضہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔میں نے ان کے امام سے پوچھا ہے۔انہوں نے اس کی تردید کی ہے۔میں نے انہیں یہ دلیل دی کہ ایسا کرنا عقلاً بھی درست نہیں۔دوسرا سوال یہ تھا کہ خلیفہ کی اطاعت ضروری ہے یا گورنمنٹ کی ؟ اگر جماعت اور گورنمنٹ میں اختلافات بڑھ جائیں تو جماعت آپ کی فرمانبرداری کرے گی یا گورنمنٹ کی ؟ یہ سوال کئی سال سے چلا آتا ہے۔انگریزوں کے وقت میں بھی یہ سوال اٹھا تھا کہ ہمارا اور آپ کا اتحاد کیسے کی ہوسکتا ہے؟ جب کہ جماعت آپ کی فرمانبرداری کو ضروری خیال کرتی ہے۔اس سوال کا جو جواب میں نے دیا تھا وہ بھی انہوں نے درست لکھا ہے کہ ہماری مذہبی تعلیم یہ ہے کہ حکومت وقت کی اطاعت کی جائے۔ہم آیات قرآنیہ نکال نکال کر کہتے ہیں کہ حکومت وقت کی فرمانبرداری ضروری ہے۔ہم احادیث نکال نکال کر کہتے ہیں کہ حکومت وقت کی فرمانبرداری ضروری ہے۔پھر میں اپنے متبوع کی نافرمانی کیسے کر سکتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی تو یہی لکھتے آئے ہیں کہ حکومت وقت کی اطاعت کی جائے اور میں خود 35 ، 36 سال سے یہی کہتا چلاتی آیا ہوں کہ حکومت وقت کی اطاعت کرو۔آخر میں اپنے قول کی مخالفت کیونکر کر سکتا ہوں۔می دراصل ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ خلیفہ کا محافظ خدا تعالیٰ ہے۔وہ اس سے ایسی غلطیاں سرزد نہیں ہونے دے گا جو اصولی امور کے متعلق ہوں۔پس اس سوال کا اصل جواب تو یہ تھا کہ خلیفہ ایسی غلطی نہیں کر سکتا۔لیکن اس جواب سے غیر احمدیوں کی تسلی نہیں ہو سکتی تھی کیونکہ وہ جماعت احمدیہ کے خلیفہ کے متعلق یہ اعتقاد نہیں رکھتے کہ وہ ایسی غلطی نہیں کر سکتا۔اس قسم کے سوال فرضی کہلاتے ہیں۔