خطبات محمود (جلد 33) — Page 230
1952 230 خطبات محمود ان کے جوابات بھی دیئے جا سکتے ہیں اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ سوال فرضی ہے اس لئے میں نے اس کا جواب نہیں دیا۔لیکن اگر میں ایسا جواب دیتا تو نتیجہ یہ ہوتا کہ غیر احمدیوں کے شبہات دور نہ ہوتے بلکہ وہ کہتے یہ سوال کو ٹلا گئے ہیں۔پس میرے اس جواب سے ( جو ہوتا تو بالکل درست) سچائی ظاہر نہیں ہو سکتی تھی۔ایسے موقع پر مناسب یہی ہوتا ہے کہ اس فرضی سوال کا ج جواب بھی دیا جائے۔چنانچہ میں نے اس سوال کے جواب میں اس نمائندے سے یہ کہا کہ جب جماعت کا خلیفہ باوجود اس کے کہ قرآن کریم کا یہ حکم ہے کہ حکومت وقت کی اطاعت کرو، احادیث سے یہ پتا چلتا ہے کہ حکومتِ وقت کی اطاعت کرنی چاہیے ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتابوں میں یہی لکھا ہے کہ حکومت وقت کی اطاعت کرو، میں خود 35 ، 36 سال سے اس بات کی تلقین کر رہا ہوں کہ حکومت وقت کی اطاعت ضروری کی ہے ، حکومتِ وقت کی نافرمانی کی تعلیم دے گا تو لازماً جماعت اس سے پوچھے گی کہ یہ حوالے کہاں گئے ؟ آپ ہمیں اب کہاں لے جانا چاہتے ہیں؟ در حقیقت ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ خلیفہ خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہوتا ہے اور وہ اسے اس قسم کی غلطی نہیں کرنے دیتا جو اصولی امور سے تعلق رکھتی ہو۔پس یہ سوال ہی غلط ہے۔ایسا موقع آہی نہیں سکتا کہ جماعت احمدیہ کا سچا خلیفہ حکومت وقت سے بغاوت کی تعلیم دے۔وہ خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہے اور وہ یہ غلطی نہیں کر سکتا۔لیکن بعض دفعہ فرضی سوال کا فرضی جواب بھی دینا پڑتا ہے۔قرآن کریم میں بھی اس قسم کے جوابات دیئے گئے ہیں۔خدا تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتا ہے کہ تو ان لوگوں سے کی کہہ دے کہ اگر خدا تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہو تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کروں گا 6۔اب کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہے ہی نہیں تو اس کی عبادت کیسی ؟ لیکن اس قسم کے جواب کی کی ضرورت تھی۔کیونکہ دشمنانِ اسلام کے دلوں میں یہ شبہات تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باوجود اس کے کہ وہ خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لاتے ہیں اُس کے بیٹے کے منکر ہیں۔وہ کہتے تھے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ خدا تعالیٰ پر ایمان بھی لایا جائے اور اس کے بیٹوں کا انکار بھی کیا جائے۔گو حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا بیٹا ہے ہی نہیں۔لیکن یہ چیز دشمنانِ اسلام کے ذہن میں آہی نہیں سکتی تھی۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحیح جواب پر اصرار کرتے تو دشمنانِ اسلام آپ کی بات نہیں سمجھ سکتے تھے۔اس لئے آپ کی طرف سے اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواب دے دیا کہ