خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 228

1952ء 228 خطبات محمود کیا جا رہا ہے بیان شائع کرنے والے نے اسے نہایت ایمانداری سے شائع کیا ہے ۔ ہمارے زودنویس بھی بعض دفعہ لکھنے میں غلطیاں کر جاتے ہیں ۔ پس اگر بیان میں کوئی معمولی غلطی رہ گئی ہو تو کوئی حرج نہیں ۔ میں اُن کا ممنون ہوں اور اُن کی تعریف کرتا ہوں کہ انہوں نے اس مضمون کو اس طرح لکھا ہے کہ شاید کوئی احمدی بھی اس طرح نہ لکھتا ۔ اس بیان کی وجہ سے جو بے چینی کی بعض احمد یوں میں پیدا ہوئی ہے وہ ان کی ناتجربہ کاری اور نا واقفیت کی وجہ سے ہے۔ بعض لوگ کام کے وقت تو آگے نہیں آتے لیکن جرح کے وقت پیش پیش رہتے ہیں ۔ بعض لوگوں نے میرے ادب کی وجہ سے یہ لکھ دیا ہے کہ شاید مضمون نویس نے یہ بیان غلط لکھ دیا ہو۔ لیکن میں ایسا که شاید آدمی نہیں جو اپنی غلطی کو دوسرے کی طرف منسوب کر دوں ۔ اگر بیان میں کوئی غلطی ہے تو وہ میری ہے اور اگر بیان صحیح ہے تو وہ میرا ہے ۔ مضمون لکھنے والے نے نہایت دیانت داری سے مضمون لکھا ہے ۔ آخر میں اُسے کچھ غلط فہمی ہو گئی ہے جس کی اصلاح کر دی گئی ہے۔ میں پہلے مضمون کی سنا دیتا ہوں ۔ اخباروں کا قاعدہ ہے کہ وہ بعض اہم شخصیتوں کے پاس جا کر اُن پر بعض سوال کرتے ہیں اور پھر ان کے جوابات حاصل کر کے اپنے اخبار میں شائع کرتے ہیں ۔ اس سے اُن کی کی غرض یہ ہوتی ہے کہ اگر اُن کے اخبار میں کوئی نیا مضمون آئے گا تو اُن کے اخبار کی قدرو قیمت بڑھے گی ۔ اگر وہ عوام الناس کے خیال کے متعلق کوئی روشنی ڈال دیں تو اس سے اخبار کی خریداری میں اضافہ ہو جاتا ہے اور وہ عوام میں مقبول ہو جاتی ہے۔ اسی غرض کے پیش نظ نظر ایک انگریزی اخبار کے نامہ نگار میرے پاس آئے ۔ انہوں نے دیکھا کہ احمدیوں کے خلاف یہ پرو پیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ یہ حکومت میں داخل ہو کر اس پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے مناسب سمجھا کہ وہ میرے پاس آئیں اور معلوم کریں کہ احمدی کیا چاہتے ہیں ۔ آیا احمدی یہ چاہتے ہیں کہ وہ حکومت پر قبضہ کر لیں یا نہیں؟ احراری علماء کے خیال میں ( یا اُن کے افتراؤں کے مطابق ) احمدی انقلاب بر پا کر کے حکومت پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں ۔ بالکل اُسی طرح جیسے شام میں کئی دفعہ انقلاب برپا ہو چکا ہے۔ اور جیسے اب مصر اور ایران میں انقلاب بر پا ہوا ۔ اردن میں بھی ایک شکل میں انقلاب برپا ہو چکا ہے اگر چہ وہ پوری طرح نہیں ہوا۔ بہر حال باہر مولویوں کی طرف سے مشہور کیا جاتا ہے کہ احمدی بھی اپنے آدمیوں کو حکومت میں داخل کر کے اس قسم کا اب بر پا کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے جب یہ پروپیگنڈا سنا تو وہ یہاں آ۔ یہاں آئے اور انہوں نے انقلاب