خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 221

1952ء 221 خطبات محمود پہنچا اور نیت کی کہ آپ پر حملہ کردوں ۔ لیکن مجھے دیکھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ! تو اس کے دل سے سارا بغض نکال دے۔ پھر آپ نے میرے سینہ پر ہاتھ رکھا اور دعا کی نے میرے سینہ پر ہاتھ رکھا اور دعائی کہ اے اللہ ! تو اس کے دل سے سارا بغض نکال دے۔ یہ فقرہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلنا ہی تھا کہ مجھے یوں معلوم ہوا کہ گویا بجائے اس کے کہ میں آپ کو قتل کرنے آیا ہوں آپ پر جان شار کرنے آیا ہوں ۔ میرے اندر محبت کا اتنا جوش پیدا ہوا کہ وہی تلوار جس سے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وار کرنا چاہتا تھا ہاتھ میں لے کر میں نے آپ کی سواری کے آگے اللہ آگے لڑنا شروع کیا ۔ اُس وقت میرے اندرا تا جوش تھا کہ خدا کی قسم ! اگر اس وقت میرے ک امنے میرا باپ بھی آجاتا تو میں تلوار سے اُس کی گردن اڑا دیتا ۔ 4 دیکھو وہ شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے آیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر تبدیلی پیدا کر دی اور وہ ایمان لے آیا۔ پس ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ خدا تعالیٰ مخالف کو دوست بنا دیتا ہے۔ اور ایک ذریعہ وہ ہے جو حضرت خواجہ نظام الدین صاحب اولیاء کے مخالف کے مقابلہ میں اختیار کیا گیا ۔ اُس بادشاہ کا ہ مرجانا خواجہ نظام الدین صاحب اولیاء کے اختیار میں نہیں تھا۔ یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں تھا اور فرشتوں کی مدد سے ایسا ہوا ۔ پس بعض دفعہ خدا تعالیٰ مخالف کو ہدایت دے دیتا ہے اور وہ دوست بن جاتا ہے۔ اور بعض دفعہ وہ اُسے مار دیتا ہے۔ ہمیں کسی خاص طریق کے مانگنے کی ضرورت نہیں ۔ بلکہ یہ دعا مانگنے کی ضرورت ہے کہ جو لوگ بھی مخالف ہیں خدا تعالیٰ ہمیں اُن کے کی اُا شر سے محفوظ رکھے اور ہم پر اپنا فضل نازل کرے۔ ہاں کوئی مخالف ایسا بھی ہوتا ہے جو شر میں بڑھ جاتا ہے اور اس کے لئے ہمیں بد دعا بھی کرنی پڑتی ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے بعض دشمنوں کے لئے بد دعا کی ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے بھی اپنے بعض دشمنوں کے لئے بددعا کی ہے۔ لیکن عام طور پر ہمارا یہی اصول ہونا چاہیے کہ ہم کسی کے لئے بددعا نہ کریں ۔ بلکہ ہمیں اپنے مخالفین کے لئے دعا کرنی چاہیے ۔ آخر انہوں نے ہی ایمان لانا ہے۔ مولوی عبدالکریم صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میں چوبارہ میں رہتا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مکان کے نچلے حصہ میں تھے کہ ایک رات نچلے حصہ سے مجھے اس طرح رونے کی آواز آئی جیسے کوئی عورت دردِ زہ کی وجہ سے چلاتی ہے۔ مجھے تعجب ہوا اور میں نے