خطبات محمود (جلد 33) — Page 218
1952 218 خطبات محمود کہنے لگا اس مہم سے فارغ ہو جائیں تو ان کا فیصلہ کریں گے۔چنانچہ وہ مہم پر چلا گیا۔بعض مریدوں نے حضرت خواجہ نظام الدین صاحب کے کانوں میں بھی یہ بات ڈال دی کہ بعض حاسدوں نے آپ کے متعلق بادشاہ کے دل میں یہ شبہ ڈالا ہے کہ آپ حکومت کے باغی ہیں اور اب بادشاہ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ سفر سے واپس آکر آپ کو سزا دے گا۔اس کا کوئی علاج کرنا چاہیے اور بادشاہ کے درباریوں کو سمجھا کر اس بات پر تیار کرنا چاہیے کہ وہ بادشاہ کو حقیقت سے آگاہ کر دیں۔خواجہ نظام الدین اولیاء نے فرمایا ہم نے کچھ نہیں کیا ہم اس کا کیا علاج کر سکتے ہی ہیں۔ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ سے دعا کریں۔مگر چونکہ مرید گھبرائے ہوئے تھے اس لئے وہ بار بار خواجہ صاحب کے پاس آتے اور کہتے کہ حضور ! اس طرف توجہ فرما ئیں کیونکہ بادشاہ نے کہا ہے کہ مہم سے فارغ ہونے کے بعد وہ کوئی نہ کوئی کارروائی کرے گا مگر آپ یہی فرماتے رہے کہ ہمارے اختیار میں کچھ نہیں ، خدا تعالیٰ کے اختیار میں سب کچھ ہے۔ہم صرف یہی کر سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ سے دعا کریں۔آخر بادشاہ مہم سے کامیابی کے ساتھ لوٹا اور جب دہلی میں خبر آئی کہ بادشاہ مہم کو سر کرنے کے بعد دہلی واپس آ رہا ہے تو وہ پھر حضرت خواجہ صاحب کے پاس آئے اور کہنے لگے بادشاہ واپس آرہا ہے۔بہتر ہے کہ اُس کے منہ چڑھوں سے اُس کے پاس سفارش کروائی جائے۔حضرت خواجہ نظام الدین صاحب نے فرمایا۔” ہنوز دلی دور است۔ابھی دتی بہت دور ہے گھبراہٹ کی کوئی بات نہیں۔اُس زمانہ میں بادشاہ پڑا ؤ کرتے آتے تھے۔جب بادشاہ کچھ فاصلہ پر اور آگے آگیا۔تو حضرت خواجہ نظام الدین صاحب اولیاء کے مرید پھر آپ کے پاس گئے اور عرض کیا بادشاہ دہلی کے اور قریب آ گیا ہے۔آپ نے فرمایا ” ہنوز دلی دور است ابھی دتی بہت دور ہے۔آخر وہ نصف فاصلہ طے کر آیا۔پھر وہ دو تہائی کی فاصلہ طے کر آیا۔پھر ایک چوتھائی فاصلہ پر پہنچ گیا۔ہر دفعہ مرید حضرت خواجہ صاحب کے پاس کی پہنچتے لیکن آپ یہی فرماتے کہ ہنوز دلی دور است۔ابھی دلی بہت دور ہے۔آخر وہ دن کی آ گیا جب بادشاہ کو شام کے قریب دہلی کے پاس پہنچنا تھا۔اُس وقت یہ قاعدہ تھا کہ بادشاہ جب سفر سے واپس کو ٹتے تو صدر مقام کے قریب رات کو قیام کرتے اور صبح کو شہر میں جلوس کی صورت میں داخل ہوتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی یہی سنت تھی۔بادشاہوں نے شہر کے باہر کچھ محلات بنائے ہوتے تھے۔جب کبھی سفر سے واپس لوٹتے تو رات کو ان محلات میں قیام