خطبات محمود (جلد 33) — Page 212
1952 212 خطبات محمود وہ یہی تھا کہ میں نہایت ادنیٰ قسم کا آدمی ہوں کہ میں نے مسیح موعود سے کسی قسم کا کوئی فائدہ نہیں ہے اٹھایا۔ان کی تو یہ غلط فہمی تھی لیکن اس میں کیا محبہ ہے کہ تم حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لائے اور آپ کی جماعت میں داخل ہوئے۔تم ایسے طبیب کے پاس گئے جس کے پاس ایسا سر مہ تھا جی جس کے لگانے سے انسان خدا تعالیٰ کو دیکھ سکتا ہے۔لیکن جسے پھر بھی خدا تعالیٰ دکھائی نہ دیا اُس سے زیادہ بد قسمت اور کون ہو گا۔تم ہسپتال میں داخل ہوئے لیکن بیماری کی حالت میں ہی اُس سے باہر چلے گئے۔لوگ موتیا بند کا آپریشن کرتے ہیں اور جس کا آپریشن خراب ہوتا ہے وہ ساری عمر حسرت سے کہتا ہے کہ لوگ آئے اور آپریشن کرایا، بینائی حاصل کی اور چلے گئے۔لیکن میں نے ج اپنا آپریشن بھی کروایا پھر بھی میری آنکھ نہ بنی۔اس شخص سے زیادہ خراب حالت اُس شخص کی ہے جو اس جماعت میں داخل ہوا ، جس کی غرض ہی خدا تعالیٰ کا وصال تھی لیکن وہ خدا تعالیٰ سے ملے بغیر گزر گیا۔قرآن کریم میں آتا ہے يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ - 6 - وہ خدا تعالیٰ کے نشانات پر سے گزرتے ہیں لیکن ان کی طرف دیکھتے نہیں۔تم وہ طریق تو اختیار کرو جن سے خدا تعالیٰ ملتا ہے۔تم قدم تو اٹھاؤ تم حج کے لئے ارادہ تو کرو۔تم زکوۃ کے لئے ہاتھ تو بڑھاؤ تم روزوں کے لئے نیند تو توڑو۔اس کے بعد دوسرا قدم اٹھے گا پھر تیسرا قدم اٹھے گا۔پہلے دن ہی مج ولایت نہیں مل جائے گی تم قدم اٹھاؤ گے تو وہ ملے گا۔آخر تم ان لوگوں کی طرح کیوں ہو گئے جو یہ مجھتے ہیں کہ لوگ خود بخود اُن کا کام کر دیں گے۔حضرت خلیفۃ اسیح الاوّل ایک واقعہ سنایا کرتے تھے کہ دو شخص ایک جنگل میں لیٹے پڑ تھے کہ انہیں دور سے ایک شخص نظر آیا۔ان میں سے ایک نے اسے بلایا اور کہا میری چھاتی پر بیر پڑا ہے اٹھا کر یہ میرے منہ میں ڈال دو۔اول تو وہ شخص سپاہی ہی تھا اور سپاہی مغرور ہوتا ہے۔پھر وہ اپنی ڈیوٹی پر جا رہا تھا۔اُس نے خیال کیا کہ یہاں جنگل میں کوئی مصیبت زدہ ہے میں جلدی اس کی مدد کو پہنچوں۔لیکن جب وہ وہاں گیا تو اس نے کہا میری چھاتی پر پیر پڑا ہے یہ میرے منہ میں ڈال دو۔اُسے غصہ آیا اور اُس نے اُس شخص سے جس نے اُسے آواز دی تھی کہا تو بڑا بے حیا ہے، میں اپنی ڈیوٹی پر جا رہا تھا کہ تو نے آواز دی۔میں نے سمجھا کہ کوئی مصیبت زدہ ہے اس لئے میں یہاں آگیا تا تمہاری مدد کروں۔لیکن یہاں آیا تو تم نے کہا میری چھاتی پر بیٹڑ پڑا ہے یہ بیراٹھا کر میرے منہ میں ڈال دو۔کیا تمہارا ہاتھ نہیں تھا تم نے بیر خود منہ