خطبات محمود (جلد 33) — Page 213
1952 213 خطبات محمود میں کیوں نہ ڈال لیا؟ اس پر دوسرے شخص نے کہا میاں ! خفا کیوں ہوتے ہو؟ یہ بہت ذلیل آدمی کی ہے، اس پر خفا ہونا بے فائدہ ہے۔ساری رات گتا میرا منہ چاھتا رہا لیکن اس کمبخت نے ہش تک نہیں کی۔اس پر وہ سپاہی چُپ کر کے چلا گیا۔پس تم اپنی حالت ان جیسی نہ بناؤ۔اگر تم نے ابھی کوشش ہی نہیں کی ، قربانی ہی نہیں کی تم نے اُس رستہ پر قدم ہی نہیں رکھا جس رستہ پر چلنے سے خدا ملتا ہے تو پھر تم کس طرح یہ امید کر سکتے ہو کہ چونکہ تم اُس جماعت میں سے ہو جو خدا تعالیٰ کو پہچانتی ہے اس لئے خدا تعالی تمہیں مل جائے گا۔تمہاری آوازوں سے تو دنیا کا گوشہ گوشہ گونج جانا چاہیے۔تمہارے گھروں سے قرآن کریم پڑھنے کی اس قدر آواز میں آنی چاہئیں کہ دنیا حیران ہو جائے۔ہم جب قادیان کی گلیوں میں سے گزرتے تھے تو ہر گھر سے قرآن کریم پڑھنے کی آوازیں آتی تھیں۔لیکن یہاں صبح کی یہ کیفیت نہیں ہوتی۔انسان جتنا گرتا ہے اُتنی ہی اُسے شور مچانے اور چلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔تم مصائب میں گھرے ہوئے ہو۔تمہیں تو بہت زیادہ چلا نا چاہیئے۔مجھے خوشی ہوئی ہے کہ کچھ لوگ تہجد پڑھنے کے لئے تیار ہوتے ہیں لیکن ابھی بہت لوگ باقی ہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ آبادی کا ایک حصہ بچے ہیں ، پھر عورتیں ہیں۔ان کا 1/3 حصہ ایسا ہوتا ہے جو نماز نہیں پڑھتا۔پھر کچھ بیمار اور کچھ بوڑھے ہیں۔اگر انہیں کل آبادی کا 1/5 حصہ بھی سمجھ لیا جائے تب بھی ربوہ کی آبادی پانچ چھ ہزار کی ہے۔اس میں سے ایک ہزار تو تہجد گزار ہونا چ چاہیے لیکن ابھی تک تین چارسو کے نام میرے پاس پہنچے ہیں۔چھ سات سو اشخاص باقی ہیں کہ جنہیں تہجد پڑھنی چاہیے۔پھر سکول کے طالب علموں کو بھی تہجد کی عادت ڈالنی چاہیے۔پندرہ سولہ سال کے لڑکے کو کم سے کم ہفتہ میں ایک دفعہ تو تہجد کے لئے اٹھانا چاہیے۔پھر انہیں تلاوت قرآن کریم کی عادت ڈالنی چاہیے اور اساتذہ کو اس کی نگرانی رکھنی چاہیے۔لیکن جب طلباء کو اس قسم کی تحریک نہیں ہوگی تو وہ خیال کر لیں گے کہ خود ہمارے اساتذہ کو بھی دین کی ج قدر نہیں اور اس طرح وہ بہت مست ہو جائیں گے۔پس تم روحانیت پیدا کرنے کی کوشش کرو۔تہجد اور نوافل پڑھنے کی عادت ڈالو۔تلاوت قرآن کریم کی عادت ڈالو تا ساری جماعت اس مرکز پر جمع ہو جائے جو دنیا میں روحانیت کا سرچشمہ ہے۔“ (الفضل 28 جون 1952ء) 1: البقرة : 154