خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 190

1952 190 خطبات محمود ہو جائے گا ، وہ روٹی کھائے گا تب بھی بیمار ہو جائے گا۔غرض ہر چیز جو وہ کھا تا ہے اس کی صحت کو نیچے گرا دیتی ہے۔لیکن جس نوجوان کا معدہ ٹھیک ہو چاہے اُسے چوڑی 4 ہوئی ہڈیاں دے دی جائیں، اُسے دال دے دی جائے ، اُسے مڈھل 5 کی روٹی دے دی جائے تو وہ اس کے اندر کی طاقت پیدا کرتی ہے۔پس جوانی کی علامتوں اور اس کے زمانے میں اور کمزوری کی علامتوں اور اس کے زمانے میں فرق ہوتا ہے۔تمہارا زمانہ بھی جوانی کا ہے۔قوم کی عمر انسان کی عمر کے برابر نہیں ہوتی۔قوم کی عمر انسانی زندگی سے بہر حال زیادہ ہوتی ہے۔سلسلہ احمدیہ اور میری عمر ایک ہی ہے۔جس سال حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعویٰ کیا ہے اور بیعت لی ہے میں اُسی سال پیدا ہوا تھا۔گویا جتنی میری عمر ہے اتنی عمر سلسلہ کی ہے۔لیکن افراد کی عمروں اور قوم کی عمر میں فرق ہوتا ہے۔ایک فردا گر 70 یا 100 سال زندہ رہ سکتا ہے تو قو میں 300 ، 400 سال تک زندہ رہ سکتی ہیں۔اگر تین سو سال بھی کسی قوم کی زندگی رکھ لیج جائے تو اُس کی جوانی کا زمانہ اُس کے چوتھے حصہ کے قریب سے شروع ہوتا ہے۔اگر ایک کی انسان کی عمر 72 ، 74 سال فرض کر لی جائے تو اس کی عمر کے چوتھے حصہ سے جوانی شروع ہوتی ہے۔یعنی 18 ، 19 سال سے انسان جوانی کی عمر میں داخل ہوتا ہے۔اس طرح اگر کسی قوم کی عمر 300 سال قرار دے لی جائے تو اُس کی جوانی 75 سال کی عمر سے شروع ہو گی۔تمہاری عمر تو می ابھی 13 سال کی ہے۔گویا تم ابھی جوان بھی نہیں ہوئے۔ہاں تم اُن دنوں کے قریب آرہے ہو جب تم جوان ہو گے۔پس تمہارے حالات اُن قوموں سے مختلف ہونے چاہئیں جو بوڑھی ہوچکی ہیں جو اپنا زمانہ دیکھ چکی ہیں۔تمہارے لئے ہر خوف ، تکلیف اور دشمن کا حملہ ایسا ہی ہونا چاہیے جیسے جوان آدمی کے لئے پتھر اور روڑے۔ایک جوان آدمی جو کچھ کھاتا ہے اُسے ہضم کر لیتا ہے اور وہ اُس کی طاقت کا موجب ہوتا ہے۔اسی طرح تم بھی ابھی جوانی میں داخل ہور ہے ہو۔اس لئے ہر خوف، ہر حملہ اور ہر مصیبت تمہاری طاقت میں اضافہ کا موجب ہونی چاہیے۔جو دشمن اٹھے جو منصوبہ کرے تمہارے لئے ضعف کا موجب نہیں ہونا چاہیے۔ایک جوان آدمی کے لئے سخت اور نرم غذا کا سوال نہیں ہوتا۔وہ جو کچھ کھائے گا اُس کی طاقت کا موجب ہوگا۔جانوروں میں دیکھ لو۔قطاة 6 ایک جانور ہے جو پتھر اور روڑے کھاتا ہے اور یہی پتھر اور روڑے اُس میں کی خون پیدا کرنے کا موجب ہوتے ہیں۔اسی طرح انسانوں میں بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں