خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 187

خطبات محمود 187 ہماری یہ شب کیسی شب ہے الہی 1952ء نہ روتے کٹے ہے نہ سوتے کٹے ہے یعنی کوئی مہجور ایسا ہوتا ہے جو اپنے جو اپنے محبوب سے دور ہوتا ہے وہ اس کی یاد میں رو رو کر رات کاٹ دیتا ہے۔ اور کسی کو اپنے محبوب کا قرب اور وصال حاصل ہوتا ہے تو وہ خوشی میں سوسو کر اپنی رات گزار دیتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ میری شب ہجر کیسی ہے کہ نہ تو یہ سوئے کٹتی ہے اور نہ روتے رح جب انسان کی صحت گر جاتی ہے اور اس کی عمر تنزل کی طرف جاتی ہے تو اس کے لئے در حقیقت کسی تبدیلی سے کسی اچھے امکان کا پیدا ہونا ناممکن ہوتا ہے۔ جو جو تبدیلی بھی ہوتی ہے اُس کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے کیونکہ بیماری اس کے اندر ہوتی ہے اور وہ ظاہری مادہ تغیرات پر قیاس کرتا ہے کہ شاید کسی نہ کسی تغیر پر وہ صحت کی طرف قدم اٹھانے لگ جائے ۔ لیکن ہر ظاہری تغیر اس کے لئے تکلیف کا موجب ہوتا ہے ۔ ہے۔ جو قانون انسانی جسم کے متعلق جاری ہے وہی قانون قوموں کے متعلق بھی پایا جاتا ہے۔ جب قو میں تندرست ہوتی ہیں ، جب قو میں اپنی اُٹھان کے وقت میں ہوتی ہیں تو ہر تغیر ان کے لئے ایک نیک نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ اگر ان کا دشمن بھاگتا ہے تب بھی وہ جیتی ہیں اور اگر ان کا دشمن حملہ کرتا ہے تب بھی وہ جیتی ہیں ۔ غرض کوئی تغیر ان کے لئے تکلیف کا موجب نہیں ہوتا ۔ دوسرے لوگ ، جب ان کے دشمن جمع ہوتے ہیں یا مخالف اُن پر حملہ کے لئے تیار ہوتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک مصیبت اور ابتلاء ہے۔ لیکن قرآن کریم صحابہؓ کے متعلق فرماتا ہے کہ جب جنگ احزاب کے موقع پر چاروں طرف سے دشمن مدینہ پر چڑھ آئے ، جب اندر کے دوست بھی دشمن سے ملک گئے اور باہر والے غیر متعلق لوگ بھی دشمن کے ساتھ مل گئے اور مسلمان اس حد تک خطرات میں گھر گئے کہ منافق جیسے بزدل لوگوں نے بھی یہ کہنا شروع کر دیا کہ نکلے تھے دنیا کو فتح کرنے لیکن اب ان کو پاخانہ کرنے کو بھی جگہ نہیں ملتی -1 ۔ تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ مومن اُس وقت اپنے ایمان میں اور بھی بڑھ گئے اور ان کی خوشی اور ترقی کر گئی ۔ اور وہ کہنے لگے کہ یہ مصائب تو وہی ہیں جن کی خدا تعالیٰ نے ہمیں پہلے سے خبر دے رکھی تھی ۔ خدا تعالیٰ نے ہمیں پہلے سے بتا دیا تھا کہ لوگ تمہیں تباہ کرنے اور مٹانے کے لئے اکٹھے ہوں گے 2۔ قرآن کریم کی یہ پیشگوئی کس طرح سچی ثابت ہوئی ہے۔ غرض بجائے اس کے کہ دشمن کا