خطبات محمود (جلد 33) — Page 169
1952 169 خطبات محمود قابورکھنے کا حکم تو ہمیشہ کے لئے ہے۔لیکن روزہ دار خاص طور پر زبان پر قابورکھتا ہے کیونکہ اگر وہ کی ایسا نہ کرے تو اُس کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔اگر کوئی شخص ایک مہینہ تک اپنی زبان پر قابو رکھتا ہے تو یہ امر باقی گیارہ مہینوں میں اس کے لئے حفاظت کا ذریعہ ہوتا ہے۔لوگ روزہ ٹوٹنے سے زیادہ ڈرتے ہیں اس لئے وہ خاص طور پر اسی مہینہ میں ناپسندیدہ چیزوں سے بچتے ہیں۔لیکن مصیبت یہ ہے کہ ہمارے ہاں روزوں کو حقیر سمجھ لیا گیا ہے اور یہ خیال کر لیا گیا ہے کہ روزہ روٹی نہ کھانے کی اور پانی نہ پینے کا نام ہے۔حالانکہ در حقیقت روزہ اس چیز کا نام ہے کہ انسان جائز اور نا جائز چیز کو خدا تعالیٰ کے حکم سے چھوڑ دے۔اور جب وہ خدا تعالیٰ کے حکم سے روٹی کھانا چھوڑ دے، پانی پینا چھوڑ دے، بیوی سے تعلقات قائم کرنا جو جائز ہے چھوڑ دے۔اس لئے کہ ایسا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے کہا ہے۔لیکن وہ جھوٹ نہ چھوڑے، غیبت نہ چھوڑے تو اُس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔اگر وہ گالی گلوچ نہ چھوڑے تو اُس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔غرض جتنی چیزوں میں انسان کا نفس استعمال ہوتا ہے مادی طور پر یا روحانی طور پر ان ساری چیزوں سے بچنے کا نام روزہ ہے۔روزہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جب تم جائز امور کو بھی خدا تعالیٰ کی خاطر چھوڑ دیتے ہو تو ؟ کیوں ناجائز امور کو نہ چھوڑو گے۔روزہ رکھنے والا یہ نہیں کہتا کہ میں شراب نہیں پیوں گا کیونکہ شراب پینا پہلے ہی منع ہے۔روزہ رکھنے والا یہ نہیں کہتا کہ میں سور کا گوشت نہیں کھاؤں گا۔سو ر کانی گوشت تو وہ ہمیشہ ہی نہیں کھاتا۔روز دار یہ نہیں کہتا کہ میں مُردار نہیں کھاؤں گا کیونکہ مُردار تو وہ ای ہمیشہ ہی نہیں کھاتا۔وہ رمضان میں فجر سے لے کر غروب آفتاب تک کیا کیا چیز میں نہیں کھاتا۔وہ کچی ایسی چیزیں نہیں کھاتا جو حلال اور طیب ہیں ، وہ گوشت نہیں کھاتا جو جائز ہے، وہ تر کاری نہیں تھی کھاتا جو جائز ہے ، وہ روٹی نہیں کھاتا جو جائز ہے ، وہ پانی نہیں پیتا جو جائز ہے ، وہ کھجور نہیں کھاتا تھی جس سے روزہ کھولنا مستحب سمجھا گیا ہے۔غرض ایک روزہ دار تمام اُن طیبات کو چھوڑ دیتا ہے جن کی سے پر ہیز کرنے اور انہیں چھوڑنے کو دوسرے دنوں میں خدا تعالیٰ نے ناجائز قرار دیا ہے۔وہ خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق انہیں چھوڑ دیتا ہے اور افطار تک برابر ان سے پر ہیز کرتا ہے۔اور جب ایک شخص تمام حلال اور طیب چیزوں کو ترک کر دیتا ہے اس لئے کہ وہ روزہ دار ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ ناجائز چیزوں کو نہ چھوڑے۔ایک شخص تر کاری چھوڑ دیتا ہے جو جائز ہے، گوشت کھانا تج ترک کر دیتا ہے جو جائز ہے، روٹی کھانا چھوڑ دیتا ہے جو جائز ہے، پانی پینے سے اور مٹھائی کھانے کی