خطبات محمود (جلد 33) — Page 168
1952 168 خطبات محمود کئی معنی ہو سکتے ہیں مثلاً ایک معنی تو یہی ہیں کہ ہم نے تم پر روزے فرض کئے ہیں تا تم ان قوموں تجھے کے اعتراضوں سے بچ جاؤ جو روزے رکھتی رہی ہیں، جو بھوک پیاس کی تکلیف برداشت کرتی رہی ہیں، جو موسم کی شدت کو برداشت کر کے خدا تعالیٰ کو خوش کرتی رہی ہیں۔اگر تم روزے نہیں رکھو گے تو وہ کہیں گی تمہارا دعویٰ ہے کہ ہم باقی قوموں سے روحانیت میں بڑھ کر ہیں لیکن وہ تقویٰ تم میں نہیں جو دوسری قوموں میں پایا جاتا تھا۔غرض اگر اسلام میں روزے نہ ہوتے تو مسلمان دوسری قوموں کے سامنے ہدف ملامت بنے رہتے۔عیسائی کہتے یہ بھی کوئی مذہب ہے اس میں روزے نہیں جن سے قلوب کی صفائی ہوتی ہے ، جن کے ساتھ روحانی ساکھ بیٹھتی۔جن کے ذریعہ انسان بدی سے بچتا ہے۔یہودی کہتے کہ ہم نے سینکڑوں سال روزے رکھے لیکن مسلمانوں میں روزے نہیں۔اسی طرح زرتشتی ، ہندو اور دوسری سب قو میں کہتیں اسلام بھی کوئی مذہب ہے۔اس میں روزے نہیں۔ہم روزے رکھتے ہیں اور اس طرح خدا تعالیٰ کو خوش کرتے ہیں۔غرض ساری دنیا متحدہ طور پر مسلمانوں کے مقابلہ میں آجاتی اور کہتی مسلمانوں میں روزے کیوں نہیں۔پس فرمایا۔اے مسلمانو! ہم تم پر روزے فرض کرتے ہیں۔لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ تا تم دشمن کے اعتراضات سے بچ جاؤ۔اگر اسلام میں روزہ نہ ہوتا یا تم روزے نہ رکھتے تو غیر مذاہب ہے، والے تم پر جائز طور پر اعتراض کرتے اور تم ان کی نگاہوں میں حقیر ہوتے۔لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ میں دوسرا اشارہ اس طرف ہے کہ اس ذریعہ سے خدا تعالیٰ روزہ دار کا محافظ بن جاتا ہے۔کیونکہ اتقاء کے معنی ہیں ڈھال بنانا ، وقایہ بنانا ، نجات کا ذریعہ بنانا۔پس آیت کے معنی ہوئے تا کہ تم خدا تعالیٰ کو اپنی ڈھال بنا لو۔جو لوگ روزے رکھتے ہیں خدا تعالیٰ ان کی حفاظت کا وعدہ کرتا ہے۔اسی لئے روزے کے ذکر کے بعد خدا تعالیٰ دعا کی قبولیت کا ذکر کرتا ہے اور فرماتا ہے میں دعاؤں کو سنتا ہوں۔پس روزے خدا تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے والی چیز ہیں۔روزے رکھنے والا خدا تعالیٰ کو اپنی ڈھال بنالیتا ہے۔اور سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ روزہ رکھنے والا برائیوں اور بدیوں سے بچ جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے روزہ اس چیز کا نام نہیں کہ کوئی اپنا منہ بند رکھے اور سارا دن نہ کچھ کھائے اور نہ پیئے۔بلکہ روزہ یہ ہے کہ منہ کو کھانے پینے سے ہی نہ روکا جائے بلکہ اُسے ہر روحانی نقصان دہ اور ضرر رساں چیزوں سے بھی بچایا جائے۔2 اب دیکھو زبان پر