خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 144

1952ء 144 خطبات محمود اس کو دنیا میں پھیلانے کی کوشش کرتا ہے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دوسرا شخص جو مسجد نہیں بناتا اُس سے یہ زیادہ یقینی جنتی ہے۔ تمہیں اپنی کمزوری کے اوقات میں کئی دفعہ خیال آتا ہو گا کہ فلاں نے کیسا اچھا مکان بنالیا ہے لیکن افسوس کہ ہمارا کوئی مکان نہیں ۔ یا اگر تمہارے ہمسائے نے کوئی اچھا سا کمرہ بنا لیا ہے تو تمہارے بچے سمجھتے ہیں کہ اگر ہمارا بھی کوئی ایسا ہی کمرہ بن جائے تو کیا اچھا ہو ۔ مگر وہ تو تمہاری محض خواہشات ہوتی ہیں اور یہ وہ وعدہ ہے جو خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت کیا کہ اگر تم میرے لئے دنیا میں گھر بناؤ گے تو میں بھی تمہارے لئے آخرت میں گھر بناؤں گا اگر ایک شخص کی کوٹھی دس ہزار روپے کی ہوا اور تمہاری کوٹھی اُس کے مقابلے میں بیس ہزار روپے کی ہو تو تمہارے لئے یہ امرکتنی خوشی اور فخر کا موجب ہوگا ۔ اس طرح اگر جنت میں ایک شخص کو اپنی نیکیوں کی وجہ سے چاندی کا مکان ملے گا تو مسجد بنانے کی وجہ سے خدا تعالی سونے کا مکان دے دے گا ۔ یا ایک کو سونے کا مکان ملا اور تمہیں بھی سونے کا مکان ہی ملنا چاہیے تھا تو چونکہ تم نے مسجد بنائی اس لئے تم کو موتیوں کا مکان ملے گا ۔ یا ایک اور شخص کو ھر ملا اور تمہیں بھی موتیوں کا گھر ہی ملنا تھا لیکن اس لئے کہ تم نے مسجد بنائی خدا تمہیں موتیوں کی بجائے ہیروں کا مکان دے دے گا ( موتی ہیرے کے الفاظ تمثیلی ہیں ۔ کوئی یہ نہ خیال کرے کہ میرے نزدیک اس دنیا کی نعماء اس دنیا کی قسم سے ہیں ۔ ) بہر حال تم دوسروں سے فضیلت میں رہو گے ۔ اور اگر دوسرے بھی وہی نیکی کرنے لگ جائیں گے تو یہ تمہارے لئے اور زیادہ خوشی کا موجب ہوگا۔ کیونکہ اس کے یہ معنی ہوں گے کہ تمہاری ساری قوم ہی اونچی ہوگئی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دفعہ غرباء آئے اور انہوں نے کہا يَا رَسُوْلَ الله! کریم علیہ وسلم امیر لوگ نیکیاں کرتے ہیں جن جن کی کی ہمیں توفیق نہیں نہیں ہوتی ہوتی۔ ۔ وہ وہ چندے دیتے دیتے ہیں، ہیں، وہ وہ صدقہ وخیرات کرتے ہیں اور اس طرح نیکیوں میں ہم سے آگے نکل جاتے ہیں ۔ باقی نیکیاں ایسی ہیں جو ہم بھی کرتے ہیں اور وہ بھی کرتے ہیں۔ جہاد ہم بھی کرتے ہیں اور وہ بھی کرتے ہیں ۔ نمازیں ہم بھی پڑھتے ہیں اور وہ بھی پڑھتے ہیں۔ روزے ہم بھی رکھتے ہیں اور وہ بھی رکھتے ہیں۔ لیکن روپیہ ہمارے پاس نہیں وہ چندے دینے کی وجہ سے ہم سے آگے نکل جاتے ہیں ۔ اب ہم اس کا کس طرح ازالہ کریں ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آؤ میں تمہیں ایک ایسی بات بتاؤں