خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 145

1952 145 خطبات محمود کہ اگر تم اس پر عمل کرو گے تو قیامت کے دن اُن سے زیادہ درجہ پا لو گے اور وہ یہ ہے کہ ہر نماز کی کے خاتمہ پر تینتیس دفعہ الْحَمْدُ لِلهِ تین تین دفعہ سُبحَانَ اللہ اور چونتیس دفعہ اللهُ اَكْبَر کہہ لیا لی کرو۔وہ بڑے خوش ہوئے۔اُنہوں نے اس پر عمل شروع کر دیا۔مگر کسی طرح امیروں کو بھی اس کی بات کا پتا لگ گیا اور انہوں نے بھی ہر نماز کے بعد سُبحَانَ اللهِ ، اَلْحَمْدُ لِلهِ ، اور اللہ اکبر کا ورد شروع کر دیا۔غریب صحابہ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے کہايَا رَسُولَ اللہ ! ان امراء کو روکئے۔پہلے یہ چندے دیتے تھے اور ہم ان سے آگے نہیں بڑھ سکتے تھے۔آپ نے ہمیں آگے نکلنے کی ایک ترکیب بتائی تو اب اُس پر بھی امراء نے کی عمل شروع کر دیا ہے اور وہ پھر ہم سے آگے نکل گئے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر خدا کسی کو نیکی کا موقع دیتا ہے تو میں اُسے کس طرح روک سکتا ہوں 3۔تم بھی مت گھبراؤ کہ اگر قوم کے سارے افراد ہی مساجد بنانے میں حصہ دار بن گئے تو تمہاری فضیلت کیا رہی۔کیونکہ پھر تمہارے لئے یہ ایک اور فخر کا مقام پیدا ہو جائے گا کہ تمہاری کی قوم کے سارے افراد ہی اونچے اور بلند مراتب رکھنے والے ہیں۔پس دوسروں سے مقابلہ بھی اپنی جگہ پر اچھا ہے۔لیکن اگر ساری قوم بھی مقابلہ میں شریک ہو جائے تو پھر یہ دوسرا فخر کا مقام حاصل ہو جاتا ہے کہ میں ایک ایسی قوم کا فرد ہوں جس کا ہر فرد ہی اونچا ہے۔پس یہ کام ایسا ہے جی جس کے ساتھ بڑی بڑی برکات وابستہ ہیں۔مگر اس کے لئے طریق ایسا نکالا گیا ہے جو کسی پر گراں نہیں گزرتا اور نہ کسی کو کوئی خاص بوجھ محسوس ہوتا ہے۔اور اگر کسی کے لئے یہ کام بو جھل بنتائج ہے تو اس کی دو ہی وجوہات ہو سکتی ہیں۔یا یہ کہ خدا تعالیٰ اُسے زیادہ ثواب دینا چاہتا ہے اور یا یہ کہ خدا تعالیٰ اس کا امتحان لینا چاہتا ہے۔جب خدا تعالیٰ تمہیں زیادہ ثواب دینا چاہے گا تو وہ کی مہینہ کے پہلے دن کوئی بڑا سودا تمہارے سامنے لے آئے گا اور تم اُس کا نفع خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر کے زیادہ ثواب لے لو گے اور تمہاری ایمان میں ترقی کرنے کی خواہش پوری ہو جائے گی۔اور یا پھر خدا تعالیٰ تمہارا امتحان لینے کے لئے مہینہ کے پہلے دن کوئی بڑا ئو دا تمہارے سامنے لے آئے گا۔اُس وقت کمزور آدمی ڈگمگا جائے گا اور وہ خیال کرے گا کہ اس میں تو میرا آٹھ آنے نفع ہے اور باقی سارے دن کے سو دوں میں کسی میں آنہ نفع ہے اور کسی میں دو پیسے۔