خطبات محمود (جلد 33) — Page 109
1952 109 خطبات محمود چلے جائیں گے۔اگر کوئی لڑکا جھوٹ بولتا ہے ، اگر وہ محنت نہیں کرتا ، اگر وہ دیانت سے کام نہیں کی لیتا اور تم اُس پر سختی کرتے ہو تو تمہاری سختی کا یہی نتیجہ نکلے گا کہ یا تو وہ اپنی اصلاح کرلے گا اور یا سکول سے الگ ہو جائے گا۔اگر وہ اصلاح کرلے گا تو یہ ہمارے لئے خوشی کا موجب ہوگا اور اگر وہ نکل جائے گا تو باقی لڑکے اُس کے گندے اثر سے بچ جائیں گے۔اصل بات یہ ہے کہ لڑکوں کی اصلاح انفرادی نگرانی کے بغیر کبھی نہیں ہو سکتی۔بچوں کی تعلیم اور اُن کی تربیت کی مثال ایسی ہی ہے جیسے باغ لگانا ہوتا ہے۔ہمارے خاندان میں باغ لگانے کا شوق ورثہ کے طور پر آیا ہے اور میں نے ہمیشہ دیکھا ہے کہ جب بھی کوئی مالی پودوں کی اصلاح کی کے لئے انفرادی توجہ نہیں کرتا باغ تباہ ہو جاتا ہے۔اور جب توجہ دلائی جائے اور اُسے پکڑا جائے تو وہی درخت جو پہلے مر رہے ہوتے ہیں بچنے لگ جاتے ہیں۔میں جب بھی باغ میں جاتا ہوں مالیوں سے یہی کہا کرتا ہوں کہ جو اچھا درخت ہے وہ تمہاری توجہ کا مستحق نہیں۔تمہاری توجہ کا می مستحق وہ درخت ہے جو بیمار ہے۔ایسے درختوں پر نشان لگاؤ اور روزانہ ان کی نگہداشت کرو۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی ایسا مالی ملتا ہے جو محنت کے ساتھ کام کر نے کا عادی ہوتا ہے تو اس توجہ دلانے کے نتیجہ میں وہ پودے ترقی کرنے لگ جاتے ہیں۔اور جب کوئی ایسا مالی ملتا ہے جو کچھ اس رنگ میں کام کرنے کا عادی نہیں ہوتا تو وہ ہمیشہ یہی کہتا ہے کہ دیکھئے فلاں درخت کیسا اچھا ہے، فلاں کیسا اچھا ہے۔میں کہا کرتا ہوں یہ تو قدرتی طور پر اچھا ہے تمہارا کام یہ ہے کہ تم بیمار پودوں کے متعلق بتاؤ کہ تم ان کے متعلق کیا کر رہے ہو۔اچھوں کو اپنے کام کی عمدگی کے ثبوت کی میں پیش کر دینا تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی ہسپتال میں جائے اور کہے دیکھئے اس ڈاکٹر کی صحت کیسی اچھی ہے، یہ نرس کیسی مضبوط ہے، یہ کمپونڈ ر کیسا تندرست ہے اور بیماروں کا ذکر بھی نہ کرے۔حالانکہ اگر وہ اچھے ہیں تو اس سے ہسپتال کے اچھا ہونے کا کوئی ثبوت نہیں مل سکتا۔ہسپتال کا اچھا ہونا اس بات پر موقوف ہے کہ بیماروں کے متعلق بتایا جائے کہ ان میں سے کتنے تندرست ہوئے کی ہیں۔اس طرح اساتذہ کا یہ کام ہے کہ وہ یہ بتائیں کہ اتنے لڑکوں میں سچائی کی عادت نہیں پائی تھی جاتی تھی ہم نے ان کو سچائی کا پابند بنایا۔اتنے لڑکوں میں ہم نے دیانت پیدا کی ، اتنے لڑکوں کو ہم جی نے محنت کا عادی بنایا۔یہ کہنا کہ ہمیں پتا نہیں لگتا بالکل غلط بات ہے۔اگر ایک سکول کے بیس پچپیں اساتذہ کو بھی پتا نہیں لگتا کہ ان کے لڑکوں کی اخلاقی حالت کیسی ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ کی