خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 105

1952 105 خطبات محمود عمارت کا ایک حصہ اُس کے دوسرے حصہ سے ملا ہوا ہوتا ہے۔ایک حصہ کو خراب کر دو تو باقی حصے می بھی خراب ہونے لگیں گے۔اس لئے جماعت کے ہر محکمہ کو اپنی اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے کی اپنے کام کو بہتر بنانا چاہیے۔اس وقت بعض محکموں کی ایسی حالت ہے کہ اگر اُن کو توڑ دیا جائے یا اُن کا عملہ موجودہ تعداد سے کم کر دیا جائے تو کچھ بھی فرق پیدا نہیں ہوگا۔ان کے بند ہو جانے پر بھی کام اسی طرح چلتا رہے گا جس طرح پہلے چل رہا ہے۔حالانکہ زندگی کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اگر کسی محکمہ کو بند کر دیا جائے تو سارا کام خراب ہو جائے۔جیسے بیت المال کا محکمہ ہے۔اس کے بند کرتے ہی سارے کام بند ہو جائیں گے۔یہی بات ہر دوسرے محکمہ میں ہونی چاہیے۔یہی کچ بات تصنیف کے محکمہ میں بھی ہونی چاہیے۔یہی بات اشاعت کے محکمہ میں بھی ہونی چاہیئے کہ ان تجھے کے کام کے بند ہونے کے ساتھ ہی جماعت کے سارے کام بند ہو جائیں۔یہی بات تعلیم کے محکمہ میں بھی ہونی چاہیئے۔یہی بات امور عامہ کے محکمہ میں بھی ہونی چاہیئے۔اس وقت در حقیقت ساری جماعت کی ذمہ داری صرف دو محکموں پر ہے۔ایک محکمہ مال پر اور ایک محکمہ تبلیغ پر۔باقی محکموں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی کمرہ کی دیوار میں چھوٹی چھوٹی ہوں اور اُس کی چھت ہوا میں معلق ہو جس کے گرنے کا ہر وقت خطرہ ہو۔کیونکہ وہ محکمے اپنی ضرورت کو پورا نہیں کر رہے۔موٹا محکمہ تعلیم کا ہے۔ہمارے ہاں اب کئی ہائی سکول ہیں ، دینیات کے سکول ہیں ، کالج ہے، تین تو ہائی سکول ہی ہیں۔ایک زنانہ اور دومردانہ۔ایک سیالکوٹ میں اور دور بوہ میں۔ایک کالج ہے لاہور میں۔اس کے علاوہ کئی مڈل سکول ہیں ، پرائمری سکول ہیں۔یہ سارے محکمہ تعلیم کی عمارت ہیں۔بے شک یہ سکول تھوڑے ہیں لیکن بہر حال جب جماعت نے ان کو قائم کیا ہے تو اس نے ان کی ضرورت کو سمجھا اور ان کے مقصد کو تسلیم کیا ہے۔پھر ہمارے سکولوں اور کالجوں کی نگرانی کرنے والا ایک ذمہ دار ادارہ ہے جس کا کام یہ ہے کہ وہ جماعتی رنگ میں نو جوانوں کی تعلیم کے بارہ میں مدد دے اور ان کے نشو و نما میں حصہ لے۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جو نو جوان نکل رہے ہیں اُن میں دین کا وہ مادہ نہیں پایا جاتا جو پرانے آدمیوں میں پایانی جاتا ہے۔پرانے آدمی قربانی میں بہت زیادہ ہیں اور نئے آدمی ابھی ان سے بہت پیچھے ہیں۔ایک بڑھنے والی جماعت جس میں باہر سے لوگ آکر مل رہے ہوں اُسی صورت میں ترقی کر سکتی ہے جب اُس میں پیدا ہونے والے نوجوان پہلوں سے زیادہ قربانی کرنے والے ہوں۔اگر