خطبات محمود (جلد 33) — Page 93
1952 93 خطبات محمود مرگئی ہے۔اگر علماء اپنے فارغ اوقات میں مسجد میں آئیں اور یہاں ہر وقت قرآن کریم کا درس ج ہو رہا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا درس ہورہا ہو تو دیکھنے والا اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہے گا۔اگر مساجد آباد ہوں گی تو ایک دکاندار جب یہ دیکھے گا کہ اس کا دوسراج ساتھی آ گیا ہے اور وہ کچھ دیر کے لئے فراغت حاصل کر سکتا ہے تو وہ مسجد میں آ بیٹھے گا تا وہ دینی تعلیم حاصل کر سکے۔ایک کارکن اگر بیمار ہو گا اور وہ بیماری کی وجہ سے دفتر سے چھٹی پر ہوگا تو بجائے گھر میں لیٹنے کے مسجد میں چلا جائے گا اور اس طرح دینی مسائل سیکھ لے گا۔پس کیا ہی اچھا ہو کہ ہماری مساجد آباد ہوں اور ہم میں زندگی کے آثار پائے جاتے ہوں اس سے دیکھنے والے کی پر یہ اثر پڑے گا کہ ان لوگوں میں دینی روح سرایت کر گئی ہے۔پس علماء کا سب سے پہلا فرض یہ کی ہے کہ وہ مرکزی مسجد میں زیادہ تر نمازیں ادا کیا کریں۔بعض اوقات امام بیمار ہو جاتا ہے یا کسی اور وجہ سے مسجد میں نماز پڑھانے نہیں جاتا تو علماء لوگوں کی تربیت میں حصہ لے سکتے ہیں اگر علماء مسجد میں نہ آئیں اور کسی دوسرے شخص کو امام مقرر کرنا پڑے تو یہ ان کی موت کی علامت ہوگی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازوں کو دیکھ لو تم کہیں یہ بات نہیں دیکھو گے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر حاضری میں زید یا بکر نے نماز پڑھائی ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی نماز نہ پڑھا سکتے تو ہمیشہ ابو بکر آگے آجاتے۔اور سب مسلمان اس بات پر متفق تھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اُمت میں سب سے بڑے عالم حضرت ابو بکڑ ہی ہیں۔اور جب بھی امام یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوتے تھے دوسرے نمبر پر جو عالم دین تھا وہ موجود ہوتا تھا۔لیکن اب حالت یہ ہے کہ میں مسجد میں جاتا ہوں تو بعض دفعہ نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ در حقیقت وہاں نماز پڑھانے کے قابل کوئی آدمی نہیں اور ضرورت کے وقت بعض دفعہ ایسے آدمی کو کھڑا کرنا پڑتا ہے جو درحقیقت مرکزی مسجد میں نماز پڑھانے کے قابل نہیں ہوتا اور نہ مقتدیوں میں اس کے پیچھے نماز پڑھنے سے بشاشت پیدا ہوتی ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ہمارے علماء کے اندر اپنے فرائض کا پورا احساس نہیں پایا جاتا۔لڑائی والے کا مقام چھاؤنی ہوتی ہے گھر نہیں۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ ہم بھی تو آدمی ہیں۔ہم کہیں گے کہ جب کوئی کہے کہ فوج میں آؤ اور دوسرا شخص فوج میں چلا جائے تو وہاں آدمیت اور رنگ کی ہو جاتی ہے۔ایک شخص جان دیتا۔