خطبات محمود (جلد 33) — Page 91
1952ء 91 خطبات محمود خطرہ کے وقت وقت میں جمع ہونے کے لئے لئے یہی موزوں جگہ تھی ۔ اگر تم تم کسی اور جگہ جمع ہوتے تو خبر دینے والا تمہیں کس طرح خبر دے سکتا ۔ اس کا ایک یہی طریق ہے کہ لوگ مرکزی جگہ پر جمع ہوں اور وہ مسجد ہے۔ اس لئے اسلامی طریق یہی ہے کہ امام کا گھر مسجد کے پاس ہوتا ہے۔ اب بھی جو خلیفہ وقت کے لئے مکان بنا ہے وہ مسجد کے پاس ہی بنا ہے ۔ اور یہ دونوں مرکزی جگہیں ہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گھر بھی مسجد کے پاس ہی تھا ۔ مسجد ایسی جگہ ہے کہ مسلمانوں کا اس کے ساتھ لگاؤ پیدا کیا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ ہر وقت مومن مسجد میں آئیں اور ذکر الہی کریں۔ اب اگر علماء مرکزی مسجد میں آئیں گے تو وہ آنے والوں کو دینی تعلیم دیں گے ، انہیں دینی مسائل سکھائیں گے۔ لیکن اگر وہ مسجد میں نہیں گھسیں گے۔ تو یہ کام کیسے ہو گا ۔ لطیفہ مشہور ہے کہ کسی شخص کا بیل مسجد میں گھس گیا تو لوگ اُسے مارنے لگے ۔ اتنے میں بیل کا مالک آگیا اور کہنے لگا تم لوگ کتنے ظالم ہو ، تم غریبوں کی پروا نہیں کرتے۔ جانور مسجد میں آگیا تو کیا ہوا بھلا میں بھی کبھی مسجد میں گھسا ہوں؟ یہ بیوقوف تھا اس لئے مسجد میں آگیا۔ میں کبھی مسجد میں آیا تو جو چاہے کہنا۔ عالم کہلاتے ہوئے بھی اگر تم مسجد میں آنے سے گریز کرتے ہو حالانکہ تمہارا اولین فرض ہے کہ مسجد میں آؤ تو تمہاری مثال اس بیل کے مالک کی سی ۔ ہے جس نے کہا تھا کہ یہ جانور تھا بیوقوف تھا اس لئے مسجد میں آگیا ۔ میں مسجد میں آیا تو جو چاہے کہنا ۔ اسی طرح تم بھی سمجھتے ہو کہ ہم عالم ہیں ہم مسجد میں کیوں آئیں ۔ پس یہاں کے علماء پر سب سے پہلا فرض یہ ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ نمازیں مرکزی مسجد میں ادا کریں ۔ اسلام پر 1370 سال کا عرصہ گزر چکا ہے ۔ مگر ابھی تک مکہ میں یہ خوبی ہے کہ علماء تو سارا دن خانہ کعبہ میں گھومتے رہتے ہیں ۔ لیکن امراء بھی اکثر نماز میں خانہ کعبہ میں ادا کرتے ہیں ۔ اس زمانہ میں جب کہ مسلمانوں کی حالت نہایت گرچکی ہے میں نے مکہ میں جس قدر نماز ۔ دیکھی ہے اور کسی جگہ نہیں دیکھی ۔ اسے دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے کہ کم از کم مکہ والوں نے رسما ہی اس چیز کو قائم رکھا ہوا ہے کہ لوگ اکثر نمازیں خانہ کعبہ میں ادا کرتے ہیں۔ چھوٹی مسجد کو وہاں زاد یہ کہا جاتا ہے ۔ خانہ کعبہ کے علاوہ دوسرے زاویے بھی بھرے رہتے ہیں ۔ لیکن خانہ کعبہ میں ہر نماز میں ہزاروں لوگ شامل ہوتے ہیں اور علماء ہر وقت گوشوں میں پڑھ رہے ہوتے ہیں اور