خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 90

1952 90 خطبات محمود اور جہلاء بھی آئیں گے جو علماء کے ذریعہ اپنی جہالت کو دور کریں گے۔اسی حکمت کے ماتحت کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ نماز کے لئے صف اول میں آنے والا زیادہ ثواب حاصل کرتا ہے 4 اس لئے کہ جسے دینی مقام حاصل ہو گا وہ فائدہ اٹھانے کے لئے پہلی صف میں آنے کی کوشش کرے گا۔اور جب وہ پہلی صف میں آنے کی کوشش کرے گا تو پچھلی صفوں والے اُس سے دینی مسائل سیکھیں گے۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ سلسلے کے علماء مرکزی مسجد میں کم آتے ہیں۔میں پاؤں میں درد کی وجہ سے اکثر نمازوں میں نہیں آتا لیکن جب مسجد میں آتا ہوں اور کی اِدھر اُدھر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے علماء کم نظر آتے ہیں۔حالانکہ جامعۃ المبشرین کے دس گیارہ کی پروفیسر ہیں اور شاید اتنے گراں پروفیسر دنیا میں اور کہیں بھی نہیں۔چالیس کے قریب طالب علم ہیں اور 10 ، 11 پروفیسر ہیں۔گویا ہر چار طالب علم کے لئے ایک پروفیسر ہے۔اس لئے ان کی کے پاس بہت سا وقت فارغ ہوتا ہے۔کبھی وہ وقت بھی تھا جب ہمارے پاس صرف ایک پر وفیسر تھا۔اور وہ سکول کے کام کے علاوہ فارغ اوقات میں مسجد میں بھی آتا تھا اور نمازیوں کو دینی مسائل میں مشغول رکھتا تھا۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ اب بعض لوگ مرکز میں محض ملازمت کی تی وجہ سے رہ رہے ہیں۔وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں رکھتے۔مسلمانوں کے لئے جمع ہونے والی جگہ مسجد ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک دفعہ شورش ہوئی۔اُس وقت خطرہ تھا کہ کہیں قیصر روم حملہ نہ کر دے۔چنانچہ ایک رات کچھ شور ہوا تو لوگوں نے سمجھا کہ قیصر کی فوجوں نے حملہ کر دیا ہے۔وہ تلواریں اور نیزے ہاتھ میں لے کر باہر نکلے تو سوال پیدا ہوا کہ وہ جائیں کہاں۔بعض صحابہ نے مشورہ دیا کہ ہمیں شہر کے دروازے کی طرف جانا چاہیے لیکن بعض نے کہا ہمیں مسجد کی طرف جانا چاہیے اس لئے کہ مسجد ہی مسلمانوں کے لئے جمع ہونے کی جگہ ہے۔جس شخص کو بھی خطرہ کا پتا لگے گا وہ مسجد میں آ جائے گا یا کسی آدمی کے ہاتھ اطلاع بھیج دے گا۔اگر ہم سب ایک طرف چلے گئے اور دوسری طرف لڑائی ہوگئی تو ہمیں لڑائی کا کیا پتا لگے گا۔غرض وہ سب مسجد میں جمع ہو گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب شور سنا تو آپ گھوڑے پر سوار ہو کر ا کیلے ہی شور کا پتا کرنے کے لئے چلے گئے۔5 جب واپس آئے تو دیکھا کہ صحابہ مسجد میں جمع ہیں۔آپ نے اُن کے اس فعل کی تعریف کی اور فرمایا