خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 354

1952 354 خطبات محمود ہم آپ کی ہتک کرتے ہیں تو ہم کہیں گے ہم تو آپ کو خاتم النبیین مانتے ہیں۔پھر بھی اگر ہم ہتک کرتے ہیں تو کیا وہ شخص آپ کی عزت کرتا ہے جو کہتا ہے کہ آپ نعوذ باللہ اپنی پھوپھی کی لڑکی حضرت زینب کو ننگا دیکھ کر اُس پر عاشق ہو گئے تھے؟ یہ شخص تو آپ پر ایسا گندا الزام لگا کر بھی آپ کی ہتک نہیں کر رہا اور ہم ہتک کر رہے ہیں جو آپ کو ان تمام اتہامات سے پاک جانتے ہی ہیں؟ آخر وہ کون سا انسان ہو گا جو ان لوگوں کی تائید کرے گا۔ہر ایک شخص کہے گا کہ یہ شخص تو کی اپنے نبی کو بھی گالیاں دیتا ہے۔عیسائیوں نے اگر کفارہ کو مانا ہے تو کم از کم انہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کو تو گناہ سے نکالا ہے۔لیکن یہ شخص اپنے نبی پر بھی الزام لگا تا ہے۔غرض وہ کون سی چیز ہے جس میں یہ لوگ ہمارا مقابلہ کریں گے۔پس اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی ہے کہ تم تبلیغ کرو اور دوسروں کا رستہ اُس نے روک دیا ہے۔اب یا تو وہ احمدی ہو کر تبلیغ کریں گے اور یا ایسے مسائل کو پیش کریں گے جن پر دوسرے لوگ ہنسیں گے۔ممکن ہے کہ یہ لوگ سیاسی طور پر یورپین لوگوں کو اپنی طرف کر لیں کیونکہ یورپین لوگ جتھے کی طرف جاتے ہیں۔وہ اس بات کی پروا نہیں کریں گے کہ احمدیت کیا سچائیاں پیش کرتی ہے اور غیر احمدیت کیا کچھ اسلام کے خلاف پیش کرتی ہے۔وہ اکثریت کی طرف کی ہو جائیں گے اور کہیں گے ہمیں ان سے مل کر فائدہ ہے، ان میں طاقت ہے، جتھا بندی ہے۔لیکن احمدی تو اقلیت میں ہیں۔لیکن جو شخص اخلاق کو مانتا ہے، مذہب کو مانتا ہے وہ کسی صورت میں بھی غیر احمد یوں کی بات نہیں مان سکتا۔پس اللہ تعالیٰ نے تمہیں عظیم الشان موقع عطا کیا ہے۔اگر تم اسے اپنے ہاتھ سے چھوڑ دو گے تو تم کتنے بدقسمت ہو گے۔پس یہ تحریک اپنے ساتھ بہت بڑی اہمیت رکھتی ہے۔اتنی بڑی اہمیت کہ تیرہ سو سال تک کسی شخص کو اس کام کی توفیق نہیں ملی جو کچ اس تحریک کے ماتحت کیا جارہا ہے۔دوسرے خدا تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے ہیں کہ اس کام میں کوئی شخص تمہارا مقابلہ نہیں کر سکتا۔یا تو اُسے احمدی ہونا پڑے گا اور یا شرمندہ ہونا پڑے گا۔دیکھ لو! پچھلے دنوں اخبارات میں اسلام کی تائید میں بعض مضامین نکلے ہیں۔لیکن وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں کی نقل تھی۔جن پر کفر کا فتویٰ لگایا گیا تھا۔گویا حضرت مرزا صاحب کا نام آئے یا نہ آئے لیکن آج اسلام وہی ہے جو آپ نے پیش کیا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی تقدیر ہے اسے کوئی ہٹا نہیں سکتا۔گو میرے نزدیک اب ایک دور ایسا آ رہا ہے کہ غیر احمدی ہمارے کی