خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 21

1952 21 خطبات محمود جہاں تک اس مضمون کا تعلق ہے مجھے یاد نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایسا کوئی کی مضمون لکھا ہو۔لیکن فرض کرو کہ آپ نے کوئی ایسا خط لکھا تھا تو سوال یہ ہے کہ جس شخص کو یہ خط لکھا گیا تھا اُس نے اس کا کیا مفہوم لیا تھا؟ کیا اس نے بھی اُس خط کا یہی مطلب لیا تھا کہ حضرت مسیح موعود الصلوة والسلام اُس سے اپنی خدمات کا بدلہ مانگ رہے ہیں؟ اور اگر اس نے یہی مطلب لیا تھا تو اس نے آپ کو کیا دیا؟ اس کا آخر کوئی نتیجہ بھی تو ہونا چاہیے۔اس کی دو ہی صورتیں ہیں۔یا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام نے جو خدمات انگریزوں کی کی تھیں وہ انعام حاصل کی کرنے والے مسلمانوں سے حقیر تھیں۔اگر ایسا تھا تو پھر تمہیں مرزا صاحب پر غصہ نہیں آنا می علیها چاہیے۔اپنے آباؤ و اجداد اور اپنے مولویوں پر غصہ آنا چاہیے جنہوں نے خطاب لئے ، جائیدادیں لیں ، انعامات حاصل کئے۔دوسری صورت یہ ہے کہ مرزا صاحب نے دوسرے مسلمانوں سے زیادہ انگریزوں کی خدمات کی تھیں۔اگر یہ بات درست ہے تو میں ان افسر صاحب سے پوچھتا ہوں ( میں ذاتی طور پر اُن کو اچھا آدمی سمجھتا رہا ہوں ) کہ آپ کے علماء اور امراء اور رشتہ داروں کو جو انعامات ملے مرزا صاحب کو اُن سے زیادہ کیوں نہ ملے ؟ کیا انگریز اتنا پاگل تھا کہ مرزا صاحب کو بڑی خدمات کا صلہ تو اُس نے نہ دیا اور دوسرے مسلمانوں کو حقیر خدمات کا صلہ اُس نے دیا۔اگر کہو کہ مرزا صاحب انگریز کی تعریف منافقت سے کرتے تھے اور دوسرے مسلمان سچے دل سے ، اس لئے انگریز نے دوسرے مسلمانوں کو صلہ دیا مگر مرزا صاحب کو کوئی صلہ نہ دیا۔تو میں پوچھتا ہوں کہ انگریزوں کا دلی خیر خواہ اسلام کا دشمن ہے یا وہ جو دل سے تو اُس کا دشمن تھا مگر منہ سے اس کی تعریف کر دیتا تھا؟ انگریزوں کا باوجود ان بڑی خدمات کے جو مرزا صاحب نے کیں ان کو تو صلہ نہ دینا مگر مولویوں میں سے بعض کو اور دوسرے مسلمان لیڈروں میں سے بعض کو صلہ دینا بتا تا ہے کہ انگریز کم سے کم یہ خوب سمجھتا تھا کہ مرزا صاحب مجھ پر احسان نہیں کر رہے۔وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اپنے مذہب کے اظہار کے لئے کہہ رہے ہیں۔اور حضور علیہ السلام کی تحریرات کا اس سے زیادہ مطلب کچھ نہ تھا کہ میں کسی بدلہ کی خواہش کے بغیر یہ کام کر رہا ہوں۔قرآن کریم میں بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق آتا ہے کہ آپ نے فرمایا