خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 284

1952 284 خطبات محمود سامنے آتا ہے تو اس کی آنکھوں میں محبت کی جھلک آجاتی ہے۔ایک ڈاکو اور قاتل انسان بھی ماں باپ سے محبت کرتا ہے۔اور بسا اوقات وہ قاتل اور ڈاکو بنتا ہی اس لئے ہے کہ کسی نے اس کے ماں باپ، بہن بھائی یا کسی اور رشتہ دار پر ظلم کیا ہوتا ہے اور وہ اس کا بدلہ لینے کے لئے اس ظالم کو قتل کر دیتا ہے ، وہ اس کا بدلہ لینے کے لئے ڈاکو بن جاتا ہے۔اور مذہب بھی یہی کہتا ہے کہ ماں باپ سے محبت کا سلوک کرو اور ان کا احترام کرو۔پھر مذہب کہتا ہے بیوی سے محبت کرو اور اس کا احترام کرو۔مذہب کہتا ہے عورت اپنے خاوند سے محبت کرے اور اس کا احترام کرے۔لیکن اگر مذہب نہ بھی ہو تو بھی لوگ اپنی بیویوں سے محبت کریں گے۔اگر مذہب نہ بھی ہو تو بھی کی عورتیں اپنے خاوندوں سے محبت کریں گی اور ان کا احترام کریں گی۔پھر مذہب کہتا ہے جھوٹ نہ بولو۔اب اس کے لئے کسی مذہب کی ضرورت نہیں۔جن قوموں میں کوئی مذہب نہیں پایا جاتا مثلاً پرانے حبشی قبائل ہیں جو خدا اور اُس کے رسول اور کتاب پر ایمان نہیں رکھتے انہیں دیکھ لو۔وہ بھی شریف انسان کی یہی تعریف کریں گے کہ وہ جھوٹ نہیں بولتا حالانکہ وہ کسی مذہب کے متبع نہیں ، ان کا رسول اور کتاب پر ایمان نہیں ہوتا۔لیکن شرافت کے ساتھ سچ کا تعلق وہ بھی مانتے ہیں۔پھر چوری چکاری کے ساتھ بھی مذہب کا کوئی تعلق نہیں۔مذہب بے شک یہ کہتا ہے کہ چوری نہ کرو لیکن جہاں مذہب نہیں وہاں بھی شرافت یہ کہتی ہے کہ چوری کرنا بُرا ہے۔پھر لڑائی کی جھگڑا ، دنگا فساد، غیبت اور دوسرے سے بغض اور کینہ رکھنا ہے۔مذہب ان سے منع کرتا ہے۔لیکن اگر مذہب نہ بھی ہو تو بھی ایک شریف انسان ان برائیوں سے اجتناب کرے گا۔پس یہ تمام چیزیں ایسی ہیں کہ جہاں مذہب نہیں وہاں بھی پائی جاتی ہیں اور جہاں مذہب ہے وہاں بھی یہ سب موجود ہیں۔اگر کوئی چیز ایسی ہے کہ جہاں مذہب ہے وہاں تو وہ موجود ہے لیکن جہاں مذہب نہیں وہاں وہ موجود نہیں۔تو وہ خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کا خیال ہے۔اگر مذہب نہیں تو انسان خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کا خیال نہیں رکھتا۔وہ کہے گا مجھے خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کی کیا ضرورت ہے یا وہ سرے سے خدا تعالیٰ سے ہی انکار کر دے گا۔لیکن ایک مذہب کا پابند انسان خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کا محتاج ہوتا ہے۔ہر مذہب کا ماننے والا کہے گا کہ مجھے خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔لیکن اس امتیازی نشان کو کس حد تک اختیار کیا لی