خطبات محمود (جلد 33) — Page 274
1952 274 خطبات محمود ہم قرآن کریم کا حکم چلانے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں اس لئے تم بھی کوئی قدم اصلاح کا اٹھاؤ تو وہی قدم اٹھاؤ جو قرآن کریم کے مطابق ہو۔ہو سکتا ہے کہ بعض دفعہ تم کوئی غلطی دیکھو جس کا ثبوت مہیا نہ ہو سکے تو خلیفہ اس کے متعلق کچھ نہیں کر سکتا۔جس طرح خدا تعالیٰ میرے سامنے آتا ہے تمہارے سامنے بھی آتا ہے۔تم راتوں کو اٹھو اور خدا تعالیٰ سے کہو کہ وہ جماعت سے اس عیب کو دور کرے۔گمنام خطوط لکھنا اس کا علاج نہیں۔اگر میں ان خطوط پر غور کروں تو میں بھی مجرم ہو جاؤں گا۔جب کوئی شخص کہتا ہے کہ فلاں نے یہ مجرم کیا ہے اور اس کے پاس کوئی ثبوت کی نہیں تو وہ بھی مجرم ہے۔اور پھر اگر وہ معاملہ میرے سامنے لے آتا ہے اور میں اس پر غور کرتا ہوں تو میں بھی مجرم ہوں۔گویا تین مجرم ہوئے۔اگر تین کی بجائے ایک جرم رہنے دیا جاتا تو بہتر تھا۔کہتے ہیں کہ کوئی تین آدمی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور اس نے اَلسَّلامُ عَلَيْكُمُ کہا۔اس پر ایک شخص نے کہا وَ عَلَيْكُمُ السَّلَامُ جب اُس نے وَعَلَيْكُمُ السَّلام کہا تو دوسرے نے کہا نماز میں بولا نہیں کرتے تمہاری نماز ٹوٹ گئی۔اس پر امام نے کہا تج الْحَمْدُ لِلَّهِ ! میں تو نہیں بولا۔گویا تینوں مجرم بن گئے۔یہی بات یہاں ہوتی ہے۔فرض کرو ایک شخص نے چوری کی ہے۔قرآن کریم اس جرم کو جائز قرار نہیں دیتا۔اب اگر کوئی دوسرا شخص اس معاملہ کو میرے سامنے لاتا ہے اور کسی کو مجرم قرار می دے دیتا ہے اور اُس کا کوئی ثبوت نہیں دیتا تو وہ بھی مجرم ہے۔اور اگر میں بلا ثبوت اس کے کی خلاف تحقیق شروع کر دیتا ہوں تو میں بھی مجرم ہوں۔پس یہ مجرم کو بڑھانے والی بات ہے اصلاح کی کی نہیں۔تم وہ اصلاح پیش کرو جو قرآن کریم کے مطابق ہو۔ورنہ راتوں کو اٹھو اور خدا تعالیٰ سے دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ ان عیوب کو جماعت سے دور کر دے کیونکہ ان عیوب کا یہی علاج ہے کی گمنام خطوط لکھنے کا کچھ فائدہ نہیں۔“ خطبہ ثانیہ کے بعد فرمایا: گلاب بی بی صاحبہ عرف پٹھانی میر پور خاص میں فوت ہو گئی ہیں۔مرحومہ موصیہ تھیں، جنازہ میں بہت تھوڑے دوست شامل ہوئے۔مرحومہ کی خواہش تھی کہ میں ان کا جنازہ پڑھاؤں۔غلام قادر صاحب بہوڑ و چک نمبر 18 ضلع شیخو پورہ وفات پاگئے۔مرحوم موصی تھے۔ان