خطبات محمود (جلد 33) — Page 273
1952 273 خطبات محمود آدمی ہوں ، بادشاہ ہوں ، ایک گنوار شخص نے میرے تہہ بند پر اپنا پاؤں رکھ دیا ہے۔آپ کی فرمانے لگے جبلہ ! تم نے اُس پر سختی تو نہیں کی؟ جبلہ نے کہا میں نے اُسے صرف ایک تھپڑ مارا ہے اور اصل سزا کی شکایت کرنے آپ کے پاس آیا ہوں۔حضرت عمرؓ نے فرمایا خدا کی قسم ! اگر تم نے اُس شخص کو تھپڑ مارا ہے تو میں ساری مجلس کے سامنے تمہیں تھپڑ ماروں گا۔جبلہ کوئی بہانہ بنا کر وہاں سے نکل گیا اور واپس جا کر دوبارہ عیسائی ہو گیا 5۔پس اسلام میں کوئی کمینہ نہیں سوائے اُس شخص کے جو خدا تعالیٰ کے قائم کردہ نظام کا خیال نہیں رکھتا۔جو شخص خدا تعالیٰ کے قائم کردہ نظام کا احترام رکھتا ہے وہ کمینہ نہیں۔کوئی شخص ج رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا جو اپنی گردن سے نہیں اُتار تا غریب نہیں۔ہاں جو آپ کی اطاعت کا جوا اُتار دیتا ہے وہ یقیناً غریب ہے۔جو شخص کسی کو اُس کی غربت یا اُس کے خاندان کے کسی نقص کی وجہ سے کمینہ کہتا ہے وہ خود کمینہ ہے۔جو شخص کسی پر اتہام لگاتا ہے خواہ وہ پھوڑھا ہی کیوں نہ ہو وہ خود مجرم ہے اور اُس سزا کا مستحق ہے جو قرآن کریم نے اس جرم کی مقرر کی ہے۔تم اچھی طرح کان کھول کر سُن لو کہ اگر تم میں سے کوئی بے نام کی رپورٹ کرتا ہے تو قرآن کریم کہتا ہے وہ رپورٹ نہیں سننی چاہیے۔قرآن کریم کہتا ہے اِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَا فَتَبَيَّنُوا تم پہلے دیکھ لو کہ خبر لانے والا فاسق ہے یا مومن ، پھر دیکھو وہ خبر اہم ہے غیراہم ، کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس آیت میں خبر کا لفظ نہیں لکھا۔” با “ کہا ہے۔اور نَبا “ کسی اہم خبر کو کہتے ہیں۔پس دوسری بات یہ دیکھی جائے گی کہ وہ خبر اہم بات ہے یا غیر اہم۔کیونکہ خلیفہ یا اس کے مقررہ کردہ افسران اور امراء کے پاس اتنا وقت نہیں کہ اس قسم کی شکایات کی تحقیق میں اسے ضائع کریں۔کسی نے کہہ دیا کہ فلاں شخص کے ٹخنہ سے کپڑا اٹھا ہوا تھا۔خلیفہ کا کیا کام ہے کہ وہ لوگوں کے ٹخنے دیکھتا پھرے۔دوسرے لوگ اُسے خود سمجھا لیں گے۔پس پہلے یہ دیکھنا ہو گا کہ شکایت کرنے والا ہے کون؟ اور جب وہ نام ظاہر نہیں کرتا تو اس کی تحقیق نہیں کی ہوسکتی۔اور دوسرے یہ دیکھنا ہو گا کہ وہ خبر اہم ہو۔اگر یہ دونوں باتیں ثابت ہو جائیں تو قرآن کی کریم کہتا ہے تم اس بات کی تحقیق کرو۔اور جب یہ ثابت ہو جائے کہ وہ بات سچ ہے تو اس کے خلاف کارروائی کرو۔