خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 259

1952 259 خطبات محمود بے تکلف مجالس کرتا ہے یا لڑتا جھگڑتا ہے تو میرا فرض ہے کہ میں جماعت کے دوستوں کو اس کی طرف توجہ دلاؤں کہ وہ اس قسم کی حرکات سے بچے رہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق آتا ہے کہ آپ بازار میں بیٹھنا یا باتیں کرنا پسند نہیں فرماتے تھے۔لیکن آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ ان باتوں کو معیوب خیال نہیں کرتے اور نہ صرف معیوب خیال نہیں کرتے بلکہ ان باتوں کو فیشن ایبل خیال کیا جاتا ہے۔بجائے اس کے کہ لوگ اپنے دوستوں کو اپنے گھروں پر بلائیں وہ مناسب سمجھتے ہیں کہ بازاروں میں کسی چبوترے پر بیٹھ کر مجلس کریں۔وہ آپس میں بے تکلفی سے مذاق کرتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض لوگ اس کے اہل نہیں ہوتے اور وہ اس مذاق پر لڑائی جھگڑے پر اتر آتے ہیں۔یہ نا پسندیدہ امر ہے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔دوستوں کو چاہیے کہ وہ اس قسم کی مجالس اپنے گھروں پر کیا کی کریں۔اپنے گھروں پر اپنے دوستوں کو بلا ؤ اور بے شک اُن سے بے تکلفانہ باتیں کرو۔اسلام یہ نہیں کہتا کہ تم سوشل نہ بنو، اسلام یہ نہیں کہتا کہ تم ہر وقت چڑ چڑا پن اختیار کئے رکھو۔اسلام مذاق کی اجازت بھی دیتا ہے، اسلام سوشل بنے کو پسند کرتا ہے۔مثلاً اسلام کہتا ہے کہ یہ بھی صدقہ ہے کہ تمہیں کوئی دوست ملے تو وہ تمہارے چہرے پر بشاشت دیکھے 4۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں سوشل بننا منع نہیں۔لیکن ہر چیز کا موقع اور محل ہوتا ہے۔شریعت بھی کہتی ہے کہ دینی اور قومی کام مسجد میں کرو۔باقی ذاتی کام گھر میں کیا کرو۔بازاروں میں بیٹھ کر ایسی مجالس کر نامنع ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی صحابی نے کھانے پر بلایا۔بعض صحابہ بھی مدعو تھے جن میں حضرت علیؓ بھی شامل تھے۔آپ کی عمر نسبتاً چھوٹی تھی اس لئے بعض صحابہ کو آپ سے مذاق کی سوجھی۔وہ کھجور میں کھاتے جاتے تھے اور گٹھلیاں حضرت علی کے سامنے رکھتے جاتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اسی طرح کر رہے تھے۔حضرت علیؓ جوان تھے کھانے میں مصروف رہے اور اس طرف نہیں دیکھا۔جب دیکھا تو گٹھلیوں کا ڈھیر آپ کے سامنے لگا ہوا تی و تھا۔صحابہ نے مذاقاً حضرت علی سے کہا تم نے ساری کھجوریں کھالی ہیں !! یہ دیکھو! ساری گٹھلیاں کجی تمہارے آگے پڑی ہیں۔حضرت علیؓ کی طبیعت میں بھی مذاق تھا چڑ چڑا پن نہیں تھا۔چڑ چڑا پن کی ہوتا تو آپ صحابہ سے لڑ پڑتے اور کہتے کہ آپ مجھ پر یہ الزام لگاتے ہیں یا مجھ پر بدظنی کرتے ہی