خطبات محمود (جلد 33) — Page 217
1952 217 خطبات محمود 66 ایک ہی ہے کہ تم خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرو اور اُس کی مدد اور اُس کا فضل اور رحم مانگو۔مخالفین کے منصوبوں اور اُن کی کوششوں کا یہ علاج نہیں کہ تم بھی منصوبے کرو بلکہ اس نے ان کا جو علاج کی مقر ر کیا ہے وہ کرتے چلے جاؤ اور ” خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ کہتے چلے جاؤ۔جب تم سچے دل سے یہ کہو گے کہ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ تو سب مشکلات دور ہو جائیں گی۔یہ اتنا لمبا تجربه شده نسخه روحانی جماعتوں کا ہے کہ اس کے لئے کسی رؤیا کی ضرورت نہیں۔گور دیا اللہ تعالیٰ نے اپنے نشان کو تازہ کرنے کے لئے دکھایا ہے۔ورنہ یہ سنت اللہ ہے کہ جب بھی خدا تعالیٰ کے مامورین ، مصلحین اور اس کے نیک اور بزرگ بندے دنیا میں آئے تو اُن کی ہمیشہ ہی مخالفت ہوتی رہی۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ 1 - ہائے افسوس! ان بندوں پر کہ کبھی بھی کوئی نبی دنیا میں ایسا نہیں آیا کہ جس سے لوگوں نے ہنسی اور مذاق نہ کیا ہو۔لوگ ان چیزوں اور دعووں پر جو غلط ہوتے ہیں ٹھٹھا اور مذاق نہیں کرتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ خود بخود ختم ہو جائیں گے۔لوگ جھوٹ بولیں ، کسی کو اپنا معبود بنالیں، کسی کو خدا تعالیٰ کا نام دے دیں ، کسی کو شارع سمجھ لیں ان کی مخالفت نہیں ہوتی۔لیکن تم سچے ہو کر انسان ہونے کا دعوی بھی کرو تو لوگ تمہاری مخالفت کریں گے۔کیونکہ بچے کی ہمیشہ مخالفت ہوتی ہے ، اور قرآن کریم نے بتایا ہے کہ جب بھی نبیوں یا اُن کے پر مصائب آئے اُن کا علاج یہی تھا کہ وہ خدا تعالیٰ کے سامنے جھکے، خدا تعالیٰ کی طرف انہوں نے توجہ کی اور اُس سے مدد مانگی۔آخر ایک دن خدا تعالیٰ کی مدد آئی اور وہی مخالفتیں جو لوگ کر رہے تھے اُن کے لئے کھا د کا کام دے گئیں اور جماعت کے ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کا وقت آگیا۔اسلامی تاریخ کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے بزرگوں کے ساتھ بھی ایسے بہت سے واقعات گزرے ہیں۔مثلاً خواجہ نظام الدین صاحب اولیاء کے متعلق ہی تاریخ میں ایک واقعہ بیان ہوا ہے کہ دہلی کے بہت سے لوگ آپ کے مرید تھے اور بعض بارسوخ لوگ بھی آپ کی کے مریدوں میں شامل تھے۔بعض دشمنوں نے بادشاہ کے دل میں یہ وسوسہ پیدا کیا کہ حضرت کی خواجہ نظام الدین صاحب باغی ہیں اور ایک دن آپ کے مقابلہ میں کھڑے ہو جائیں گے۔آہستہ آہستہ بادشاہ اُن کی باتوں سے متاثر ہو گیا۔بادشاہ اُن دنوں ایک مہم پر جانے والا تھا۔وہ کی