خطبات محمود (جلد 33) — Page 137
1952 137 خطبات محمود تقریب پر انہوں نے یہ چندہ دیا ہے۔یہ نہیں کہ کسی تجارتی اصول پر یہ روپیہ انہیں ملا ہو۔کیونکہ بظاہر یہ رقم ان کے حالات سے زیادہ معلوم ہوتی ہے۔چھوٹے تاجروں کے متعلق یہ فیصلہ ہوا تھا کہ وہ ہر ہفتہ کے پہلے دن کے پہلے سودے کا نفع اس غرض کے لئے دے دیا کریں۔کیونکہ چھوٹے تاجروں کا جو نفع ہوتا ہے وہ بعض دفعہ ایک پیسہ ہوتا ہے ، بعض دفعہ ایک دھیلا ہوتا ہے۔اگر زیادہ بھی نفع ہو جائے تو چھوٹے تاجر کو ایک سودے میں دو آنے یا چار آنے مل جاتے ہیں۔پس چونکہ ان کا نفع معمولی ہوتا تھے ہے اس لئے ان کے متعلق یہ فیصلہ ہوا تھا کہ وہ ہر ہفتہ کے پہلے دن کے پہلے سودے کا نفع مساجد کے کی لئے دے دیا کریں۔ربوہ میں ہمارے پچاس کے قریب تاجر ہیں۔چار ہفتوں کے پہلے دن بھی ان جی پر گزرے ہیں اور چار ہفتوں کے پہلے دنوں میں کوئی نہ کوئی ان کا پہلا سودا بھی ہوا ہو گا لیکن جہاں تک مجھے علم ہے ان پچاس میں سے کسی ایک نے بھی اس پر عمل نہیں کیا۔یہ فرض کرو ان کا اوسط منافع ایک آنہ تھا تو چار ہفتوں میں ان کی طرف سے دو سو آنہ آنا چاہئے تھا۔بلکہ اب تو غالبا پانچواں ہفتہ شروع ہو چکا ہے۔کیونکہ ہر مہینہ میں ہفتہ سے کچھ زائد دن بچ رہتے ہیں اور شوری پر بھی اب تک ایک ماہ سے تین دن زائد گزر چکے ہیں۔پس اگر اوسط نفع ایک آنہ بھی سمجھا جاوے تو پانچ ہفتوں میں ان کی طرف سے اڑھائی سو آنہ آنا چاہیے تھا یعنی قریباً سولہ روپے۔مگر جہاں تک میرا خیال ہے ربوہ کے کسی تاجر نے بھی اس تجویز کو یاد نہیں رکھا اور نہ اس پر عمل کرنے کی کوشش کی ہے۔جیسا کہ میں نے بار ہا بتایا ہے مرکز کے لوگ دوسروں کے لئے نمونہ ہوتے ہیں۔اگر وہ اچھا نمونہ دکھا ئیں تو باہر کے لوگ بھی ان کی نقل کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ وہ بھی اچھے ہو جا ئیں۔اور اگر مرکز کے لوگ اچھا نمونہ نہ دکھا ئیں تو باہر کے لوگ سمجھتے ہیں کہ اچھا نمونہ دکھانا کوئی ضروری چیز نہیں۔بلکہ باہر کے کمزور لوگ تو جھوٹی باتیں بھی مرکز کی طرف منسوب کر کے جی اپنے لئے رستے نکالتے رہتے ہیں۔عورتوں میں چونکہ زیادہ کمزوری ہوتی ہے اس لئے جب وہ اپنے خاوندوں سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں اور خاوند نہیں کہتے ہیں کہ ہم پر چندوں کا بوجھ زیادہ ہے ہم ان ضروریات کو پورا نہیں کر سکتے تو ان میں سے بعض یہ جواب دے دیتی ہیں کہ خلیفہ المسیح کی بیویاں تو پانچ پانچ سوروپیہ کے جوڑے پہنتی ہیں اور تم ہمیں پچاس بھی نہیں دیتے۔اسی طرح اب انجمن ربوہ نے اس پر عمل شروع کروا دیا ہے اور چندہ داخل ہونا شروع ہو گیا ہے۔