خطبات محمود (جلد 33) — Page 136
1952 136 خطبات محمود سمجھتا کہ منتظمین نے اس میں کیا حکمت مد نظر رکھی ہے۔جلد میں نے انہیں توجہ دلائی تھی کہ وہ ایسی تدبیر کریں کہ ہوا کے دنوں میں سائبان پھٹیں نہیں وہ کھڑے رہیں اور دیواروں پر ان کا بوجھ نہ پڑے کیونکہ دیوار میں کمزور ہیں۔جو تجویز میں نے بتائی تھی اُس کو تو انہوں نے رد کر دیا اور لکھا کہ انجینئر اس کا فائدہ نہیں سمجھتے گو میرے نزدیک اس سے فائدہ ہوسکتا تھا۔مگر جو تجویز اس کے مقابلہ میں پیش کی گئی تھی اس پر عمل نہیں کیا گیا اور اس وجہ سے ڈر ہے کہ جو لوگ باہر بیٹھیں گے خصوصاً بوڑھے اور کمز ور لوگ ان کی صحت کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔آج میں جماعت کو اس فیصلہ کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں جو شوری میں مساجد بنانے کے متعلق ہوا ہے۔شوری میں یہ تحریک پاس ہوئی تھی کہ لوگ مختلف تقریبوں پر اور مختلف پیشہ ورا اپنی آمد نیوں پر کچھ نہ کچھ رقم مساجد کے لئے دیتے رہیں جس سے غیر ممالک میں جہاں مساجد کا بہ تبلیغی نقطہ نگاہ سے ضروری ہے مساجد تعمیر ہوتی رہیں۔اُس وقت جماعت نے اخلاص بھی دکھایا، جوش بھی دکھایا بلکہ چار ہزار روپیہ نقد بھی جمع کر دیا اور ساری ہی تجاویز کو انہوں نے پسند کیا اور کی منظور کیا بلکہ بعض نے تجویز کردہ سے زائد چندہ تجویز کیا اور کہا کہ چندے کو اِس اِس شکل میں رکھا ج جائے تا کہ مساجد کی تعمیر کے لئے زیادہ سے زیادہ روپیہ آ سکے۔لیکن عملی طور پر میں دیکھتا ہوں کہ سوائے چندلوگوں کے باقیوں نے اس طرف توجہ نہیں کی۔تاجروں میں سے میرے سامنے صرف ایک مثال آئی ہے اور وہ کوئٹہ کے ایک دوست شیخ محمد اقبال صاحب کی ہے جو بڑے تاجروں میں سے ہیں۔فیصلہ یہ تھا کہ بڑے تاجر ہر مہینہ کے پہلے دن کے پہلے سودے کا جو نفع ہو وہ مسجد فنڈ میں دے دیا کریں۔پس میرے سامنے اب تک صرف یہی ایک مثال آئی ہے کہ انہوں نے اڑھائی سوتی روپیہ اس چندہ میں بھجوایا ہے۔باقی کچھ لوگ جنہوں نے مجھ سے نکاح پڑھوائے تھے ان کو میں نے یاد دلا دیا کہ خوشی کی تقاریب پر مساجد کے لئے چندہ دینا بھی ضروری ہے اور انہوں نے کچھ چندہ دے دیا۔اب لاہور میں ایک دوست حیدر بخش صاحب جو گجرات کے رہنے والے ہیں انہوں نے مسجد کے لئے سور و پیہ دیا ہے۔انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ سورو پیدا نہوں نے کس اصول کے مطابق دیا ہے۔بعض اور رقمیں بھی انہوں نے دی تھیں۔میں سمجھتا ہوں کہ کسی خوشی کی بعد میں منتظمین نے بتایا کہ صبح ہوا چلی تھی جس سے سائبانوں کو بہت نقصان پہنچ گیا۔