خطبات محمود (جلد 33) — Page 3
1952 3 خطبات محمود ہے کہ آیا انہوں نے اس پلان اور تجویز کے مطابق کام کیا ہے جو انہوں نے شروع سال میں کی جماعت کے سامنے پیش کی تھی۔دنیا میں ہر جرنیل ہر سال ایک خاص پلان اور تجویز کے مطابق کام کرتا ہے اور اُس پلان اور تجویز کی وجہ سے اُس کی قوم اُسے پکڑتی ہے۔سوائے ہمارے مرکزی محکموں کے کہ وہ کوئی تجویز اور پلان نہیں بناتے اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ انہوں نے کیا کام کیا ؟ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اتنے خطوط لکھے، اتنے مبلغوں کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلائی۔یہ کام کوئی چیز نہیں۔اصل کام یہ ہے کہ کسی علاقہ کو فتح کیا جائے۔کسی کی ادارہ یا محکمہ کا مثلاً تصنیف کا محکمہ ہے اشتہارات کا محکمہ ہے یا دینی تعلیم کا صیغہ ہے دنیا پر حاوی ہو جانا اصل چیز ہے۔پس ایک تو میں مرکزی محکموں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ نئے سال کے لئے ایک خاص پلان بنائیں اور پھر اسے پورا کرنے کی پوری کوشش کر یں۔میں نے تحریک جدید کے محکموں کو جلسہ سالانہ سے قبل اس طرف توجہ دلائی تھی۔معلوم نہیں انہوں نے میری ہدایت کے مطابق کام کرنا شروع کر دیا ہے یا نہیں۔میں نے انہیں اس طرف توجہ دلائی تھی کہ ہر محکمہ کی ایک پلان اور تجویز ہونی چاہیے۔اور پھر اس کے لئے وقت مقرر ہونا چاہیے۔مثلاً یہ کہنا چاہیئے کہ ہم فلاں کام چھ ماہ ، سات ماہ ، سال یا ڈیڑھ سال میں کریں گے تا اس عرصہ کے بعد جماعت ان پر گرفت کر سکے کہ آیا انہوں نے اس پلان اور تجویز کے مطابق جو انہوں نے شروع سال میں پیش کی کی تھی کام کیا ہے یا نہیں۔شروع سال میں ہر محکمہ اور ہر صیغہ کو اپنی پلان اور تجویز دینی چاہیے اور وہ پلان اور تجویز ایسی ہونی چاہیے کہ جسے واقعات کے لحاظ سے پکڑا جا سکے۔مثلاً اگر دعوۃ و تبلیغ والے کہیں کہ ہم اس سال بڑے زور شور سے تبلیغ کریں گے تو زور شور ایسی چیز نہیں جس کی وجہ سے وقت گزرنے پر انہیں پکڑا جا سکے۔پلان اور تجویز یہ ہے کہ ہم نے اس سال فلاں تحصیل، فلاں تھانے ، یا فلاں گروہ کو اپنے ساتھ کر لینا ہے یہ پلان ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہر جرنیل اپنے پروگرام کو سو فیصدی پورا کر لیتا ہے لیکن تم کم از کم پکڑے ضرور جاؤ گے۔پس میں ہر صیغہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے کام کے لئے ایک خاص تجویز اور پلان بنائے اور 15 ، 16 جنوری تک اسے پیش کرے کہ وہ کس طرح اپنے کام کو جاری کریں گے۔کن کاموں کی طرف اُن کی پہلے