خطبات محمود (جلد 33) — Page 2
1952 2 خطبات محمود اپنی پوزیشن قائم کر چکے ہیں۔مگر جہاں تک نفوذ کا سوال ہے ہم ابھی بہت پیچھے ہیں بلکہ ہماری کی مخالفت ترقی کر رہی ہے اور اب اُن گروہوں اور جماعتوں میں بھی پھیل رہی ہے جو پہلے ہمیں نظر انداز کر دیتی تھیں یا ہمارے افعال کو خوشی کی نگاہ سے دیکھتی تھیں۔پس آنے والے سال میں ہمیں مزید جد و جہد کی ضرورت ہے۔ہمیں ایک انقلابی تغیر پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ایک کی انقلابی تغیر پیدا کئے بغیر ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔یہ انقلاب ہمارے دماغوں میں پیدا ہونا چاہیے۔ہماری روحوں میں پیدا ہونا چاہیے۔ہمارے دلوں میں پیدا ہونا چاہیے۔ہمارے افکار اور جذبات میں پیدا ہونا چاہیے۔ہم اپنے دلوں ، روحوں ، اور دماغوں میں عظیم الشان انقلاب پیدا کئے بغیر اس مقام کو حاصل نہیں کر سکتے۔یا کم از کم اس مقام کو جلدی حاصل نہیں کر سکتے جس کو حاصل کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں ہر سال اپنے لئے ایک پروگرام مقرر کرنا چاہیے اور اسے پورا کرنے کے لئے کوشش کرنی چاہیے۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارا کوئی جماعتی پروگرام نہیں ہوتا۔ہماری نظارت علیا آج شروع سال میں اپنے آپ کو ویسا ہی محسوس کرتی ہے جس طرح کہ وہ آج ء 30 سال قبل اپنے آپ کو محسوس کرتی تھی۔ہماری نظارت دعوۃ و تبلیغ نئے سال میں وہی خیالات اور افکار لے کر داخل ہوتی ہے جو خیالات اور افکار آج سے 30 سال قبل رکھتی تھی۔ہماری نظارت امور عامہ اپنا نیا سال انہی خیالات کے ساتھ شروع کرتی ہے جن خیالات سے کی اس نے آج سے 30 سال قبل اپنا نیا سال شروع کیا تھا۔حالانکہ ہماری جماعت ایک جہاد کرنے والی جماعت ہے۔بے شک ہم تلوار کے اُس جہاد کے مخالف ہیں جو کسی ناکردہ گناہ پر تلوار چلانے کی اجازت دیتا ہے مگر ہم سے زیادہ اس جہاد کا قائل کوئی نہیں جو جہاد ذہنوں ، جذبات اور روحوں سے کیا جاتا ہے۔پس حقیقتا اگر کوئی جماعت جہاد کی قائل ہے تو وہ صرف ہماری جماعت ہی ہے۔لیکن ہمارے مرکزی عملے جہاد والی روح کے ساتھ اپنا نیا سال شروع نہیں کرتے۔وہ بغیر کسی پلان (PLAN) کے بغیر کسی تجویز اور کسی ایسے ارادہ کے کہ جس کے نتیجہ میں انہیں پکڑا جا سکے اپنا سال شروع کرتے ہیں۔باقی دنیا کے زندہ محکمے ہر سال ایک پلان اور نجی تجویز بناتے ہیں اور اس کے مطابق کام کرتے ہیں۔چھ سات ماہ کے بعد جماعت انہیں پکڑتی