خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 101

1952 101 خطبات محمود حقیقت یہی ہے کہ انسان کو اپنی زندگی میں زیادہ سے زیادہ کام کرنے کی عادت ڈالنی کی چاہیئے اور زیادہ سے زیادہ مفید کام کرنے کی عادت ڈالنی چاہیئے۔اگر وہ اس بات کی عادت کی ڈال لے تو اس کے پاس کوئی وقت بیچ ہی نہیں سکتا جو غلط خیالات اور پراگندہ خیالات میں صرف ہو سکے۔پراگندہ خیالات اور غلط خیالات اُس شخص کے دل میں پیدا ہوتے ہیں جس کا وقت رائیگاں جا رہا ہو۔لیکن جو شخص کام میں لگا ہوا ہو گا اُس کے دل میں پراگندہ اور غلط خیالات پیدا ہی کس طرح ہوں گے۔اور اگر کسی کو کوئی ایسا صدمہ پہنچے گا بھی جو اُس کے خیالات کو پراگندہ کرنے والا ہو تو وہ فوراً اُس پر غالب آجائے گا۔کیونکہ کام اُس کے سامنے ہوگا اور وہ اس میں مشغول ہو جائے گا۔ہماری جماعت کو خصوصاً یہ امر مدنظر رکھنا چاہیئے۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے انہیں ایسے زمانہ میں پیدا کیا ہے جب ان کے سامنے کام ہی کام ہے۔دنیا میں مختلف زمانے آتے ہیں اور ان زمانوں میں خدا تعالیٰ کی مختلف صفات اور تجلیات کا ظہور ہوتا ہے۔قرآن کریم میں بھی اس طرف اشا کیا گیا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں بھی اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ الہام آتا ہے کہ اُفُطِرُ وَ اَصُومُ 5 یعنی کبھی کبھی میں روزہ کھولتا ہوں اور کبھی کبھی روزہ رکھتا ؟ ہوں۔یعنی کبھی تو ہم دنیا میں ایسی تقدیر جاری کرتے ہیں کہ کام ہی کام انسان کے سامنے ہوتا ت ہے۔جیسے افطاری کا وقت آ جائے تو کام بڑھ جاتا ہے اور لوگ ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ جلدی کرو۔شربت لاؤ، برف لاؤ، کھجور میں لاؤ۔اور کبھی روزے کا وقت ہوتا ہے جب انسان چپ کر کے بیٹھارہتا ہے۔خدا تعالیٰ کی دو صفتیں ہیں جن کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس الہام میں ذکر آتا ہے۔نادان کہتا ہے کہ کیا خدا روزہ رکھتا ہے؟ یا کیا خدا روزہ کھولتا ہے اور اُس وقت اسے بھوک لگ رہی ہوتی ہے؟ وہ شخص جو ایسا کہتا ہے وہ بیوقوف ہے۔وہ یہ نہیں جانتا کہ یہ ایک استعارہ ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ کبھی دنیا میں ایسے تغیرات پیدا ہوتے ہیں کہ کام ہی کام انسان کے سامنے ہوتا ہے اور کبھی ایسے تغیرات پیدا ہوتے ہیں جب کام کا غلبہ نہیں ہوتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ وہ ہے جو کام کا زمانہ ہے۔جب دوسرے وقتوں میں بھی جو کام کاج وقت نہیں ہوتا انسانی زندگی کا ماحصل کام کرنا ہے تو پھر اس زمانہ میں جو کام کا ہی زمانہ ہو کام کی کی