خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 77

$1951 77 خطبات محمود اُسے بار بار دہرایا جائے اور آنکھوں کے سامنے اُس کی تصویر لائی جائے تا انسان مجبور ہو جائے کہ اُس کی سے پیار کرے۔اور اس کا نام قرآن کریم میں ذکر الہی رکھا گیا ہے۔جیسے فرمایا فَاذْكُرُوا الله كَذِكْرِكُمْ أَبَاءَ گم 4 تم خدا تعالیٰ کو اس طرح یاد کرو جیسے تم اپنے باپ دادوں کو یاد کرتے ہو۔جیسے ایک چھوٹا بچہ کہتا ہے کہ میں نے اماں کے پاس جانا ہے اسی طرح تم بار بار خدا تعالیٰ کا ذکر کرو تا کہ وہ تمہیں یاد ہو جائے۔خدا تعالیٰ وراء الور ا ہستی ہے اُس کا حسن براہِ راست انسان کے سامنے نہیں آتا بلکہ اُس کا حسن انسان کے سامنے کئی واسطوں سے آتا ہے۔اگر اس کے حُسن کو الفاظ میں بیان کیا جائے اور پھر ہم اس پر غور کریں اور سوچیں تو آہستہ آہستہ وہ نقش فِی الحَجَر کی طرح ہو جائے گا اور معنوی طور پر اس کی شکل ہمارے سامنے آجائے گی۔خدا تعالیٰ کے جوننانوے نام بتائے جاتے ہیں وہ دراصل یہی چیز ہے۔خدا تعالیٰ کے صرف ننانوے نام نہیں بلکہ اُس کے نام ننانوے ہزار میں بھی ختم نہیں ہوتے۔عدد محض تقریبی ہے۔یہ کوئی شرعی مسئلہ نہیں۔صوفیاء یا گزشتہ انبیاء نے ذہن نشین کرنے کے لیے یہ اصطلاح وضع کر دی کیونکہ ان ان ناموں کا ذکر یہودیوں کی کتابوں میں بھی آتا ہے۔خدا تعالیٰ کے اگر موٹے موٹے نام بھی گنے جائیں تو وہ بھی ننانوے سے بڑھ جاتے ہیں۔پھر نام در نام آ جاتے ہیں۔پھر ان کی تشریح آ جاتی ہے اور اس طرح یہ نام کئی ہزار کیا کئی لاکھ تک جا پہنچتے ہیں۔ہم لفظ رب بولتے ہیں تو اس کا ہم پر کوئی خاص اثر نہیں ہوتا۔اس لیے کہ یہ لفظ ہماری زبان کا نہیں۔خدا تعالیٰ نے انسانی دماغ اس طرح کا بنایا ہے کہ جس چیز کو انسان بچپن میں سمجھ لے وہ چیز فوراً اس کے ذہن میں آتی ہے باقی چیزیں براہِ راست ذہن میں نہیں آتیں۔دماغ ان کا ترجمہ کرتا ہے۔پھر وہ ترجمہ ہمارے ذہن میں آتا ہے۔مثلاً جب ہم لفظ " آقا " بولتے ہیں تو اس کا مفہوم فوراًہمارے ذہن میں آجاتا ہے، اس کا ہمیں ترجمہ نہیں کرنا پڑتا۔لیکن جب ہم مالک اور ماسٹر کہتے ہیں تو ذہن ان کا ترجمہ کرتا ہے۔بیشک بعض الفاظ ایسے بھی ہیں جو غیر زبانوں کے ہیں اور وہ ہماری زبان میں استعمال ہوتے ہیں۔وہ جب بولے جائیں تو اُن کا مفہوم براہ راست ہمارے ذہن میں آجائے گا لیکن وہ الفاظ صرف محدود معنوں میں ہماری زبان میں استعمال ہوتے ہیں اور انہی محدود معنوں میں وہ ہمارے ذہن میں آتے ہیں۔مثلاً رب کا لفظ ہے۔عربی زبان میں اس کے معنے بہت وسیع ہیں لیکن جب یہ لفظ اردو میں استعمال ہو گا تو محدود معنوں میں ہو گا۔