خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 61

$1951 61 خطبات محمود حالانکہ واقعہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت کو اسی طرح حاصل کیا جا سکتا ہے۔جیسے دنیا میں دوسر۔لوگوں کی محبت کو لوگ حاصل کر لیا کرتے ہیں، انہیں دوست بنالیا کرتے ہیں خدا تعالیٰ کی محبت کو پیدا کرنے کے لیے کوئی خاص گر نہیں ہوتے۔دنیا میں لوگ ماں باپ سے محبت کرتے ہیں اور یہ محبت اسی لیے پیدا ہو جاتی ہے کہ ان کے احسانات بار بار اس کے سامنے آتے ہیں ورنہ ماں باپ کی محبت کہیں باہر سے تو نہیں آتی۔کبھی یہ ہوتا ہے کہ محبت کے بھرے ہوئے گھڑے باہر سے لائے جارہے ہوں یہ محبت آپ ہی آپ پیدا ہو جاتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جُبِلَتِ الْقُلُوبُ عَلَى حُبِّ مَنْ اَحْسَنَ إِلَيْهَا 3 خدا نے انسان کی فطرت میں یہ بات رکھی ہے کہ جو شخص اس پر احسان کرتا ہے اس کی محبت اس کے دل میں جاگزیں ہو جاتی ہے۔چاہے تم کوشش کرو یا نہ کرو یہ محبت خود بخود پیدا ہو جائے گی اس کے لیے کسی خاص جد و جہد اور کوئی خاص تدبیر اختیار کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔کبھی تم نے کوئی ایسا بچہ دیکھا ہے جو یہ پوچھے کہ ماں باپ کی محبت کس طرح پیدا کی جاتی ہے؟ جب تک کوئی بچہ جوان نہیں ہو جاتا اور اس کی بیوی اس کے ماں باپ کی محبت چھین نہیں لیتی وہ ماں باپ کا عاشق ہوتا ہے۔اور ہر بچہ اور ہر بچی اپنے ماں باپ سے فطرتی طور پر محبت کرتی ہے نہ کبھی کسی نے اس کو پیدا کرنے کے لیے کوئی جدوجہد کی اور نہ کسی نے دوسروں سے اس بارہ میں مشورہ لیا۔یہ محبت آپ ہی آپ پیدا ہو جاتی ہے۔پھر خدا تعالیٰ کی محبت پیدا کرنے کے لیے کسی خاص گر کی کیا ضرورت ہے۔اس کی محبت پیدا کرنے کے بھی یہی طریق ہیں لیکن تم انہیں اختیار نہیں کرتے۔تمہیں کون کہتا ہے کہ تم کھانا شروع کرنے سے پہلے بِسمِ اللهِ نہ پڑھو۔بات صرف یہ ہے کہ تمہیں توجہ دلانے والا کوئی نہیں۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے بچہ ماں باپ سے دور ہو، ماں باپ اُسے خرچ بھیج رہے ہوں لیکن اسے یہ معلوم نہ ہو کہ یہ خرچ میرے ماں باپ کی طرف سے آ رہا ہے۔اس لیے اس نے دل میں ان کی محبت پیدا نہیں کی ہوگی۔اسی طرح جب تم خدا تعالی کو یاد نہیں کرتے اور تم غور نہیں کرتے کہ تمہیں کھانا کون بھیج رہا ہے تو تم کہتے ہو کہ اچھا خدا ہے کہ اس نے تو ہماری کبھی خبر بھی نہیں لی۔لیکن اگر کوئی یاد دلا دے کہ یہ کھانا اُسی نے دیا ہے، یہ پانی اُسی نے دیا ہے تو خود بخود اُس کی محبت تمہارے دلوں میں پیدا ہو جائے گی۔تقرب الہی کے حصول کا جو موٹا گر ہے اسے تم چھوڑ دیتے ہو اور یہ پوچھتے ہو کہ اس کو حاصل کرنے کے لیے کون سا گر۔