خطبات محمود (جلد 32) — Page 30
$1951 30 خطبات محمود کیا ہے؟ اس وقت بیرونی جماعتوں سے سوڈیڑھ سو آدمی یہاں آیا ہوا ہے اور ہم خوش ہیں کہ جماعت میں زندگی کے آثار پائے جاتے ہیں کہ ایک جنگل میں اتنے آدمی اکٹھے ہو گئے ہیں لیکن اگر ہم غور سے کام لیں تو یہ زندگی کے کیا آثار ہیں کہ جس ملک میں ہم بیٹھے ہیں اس ملک کے باشندے ہمارے اندر موجود نہیں۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے ہم انگلستان میں ایک بہت بڑا جلسہ کریں اور اس میں پاکستان کے پاکستانی، افریقہ کے حبشی، انڈونیشیا کے انڈو نیشین ، سیلون کے سیلونی، برما کے برمی ، افغانستان کے افغان اور عرب ممالک کے عرب سب موجود ہوں لیکن انگلستان کا کوئی آدمی نہ ہو اور ہم بڑے خوش ہوں کہ ہمارا جلسہ نہایت کامیاب ہوا ہے۔سوال یہ ہے کہ وہ جلسہ کیا کامیاب رہا جس میں اور ممالک کے لوگ تو موجود تھے اور انگلستان کا کوئی آدمی موجود نہ تھا؟ اس طرح تو ہم نے اپنے روپیہ کو ضائع ہی کیا کیونکہ جس ملک کے لوگوں پر ہم اپنا اثر پیدا کرنا چاہتے تھے اُس ملک کا کوئی فرد اس میں موجود نہیں تھا۔اسی طرح ہم جب سندھ میں آئے ہیں تو سندھ کے لوگوں کی خاطر آئے ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم سندھیوں میں اپنی تبلیغ کے حلقہ کو وسیع کریں اور ان کو اپنے اندر زیادہ سے زیادہ تعداد میں شامل کریں۔غرض اگر غور سے کام لیا جائے اور سوچنے کی عادت ڈالی جائے تو یہ چیز ہمارے سامنے آجاتی ہے اور ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ در حقیقت اس صوبہ میں رہتے ہوئے ہم نے اپنی ذمہ داری کو سمجھا ہی نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کے رہنے والوں کا حق پنجابیوں سے زیادہ ہے اور ہمارے لیے خوشی کا دن دراصل وہ ہو گا جب ہمارے جلسہ میں اگر پانچ سو آدمی ہوں تو ان میں سے چار سو سندھی ہوں اور ایک سو پنجابی ہو۔اگر ہم ایسا تغیر پیدا کر لیں تب بیشک یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہم نے اپنے فرض کو ادا کر دیا۔اس کے بعد ہم اس خیال سے مطمئن ہو سکتے ہیں کہ خواہ اب ملک میں یہ رو چل پڑے کہ پنجابیوں کو نکال دیا جائے تب بھی احمدیت اس ملک سے نہیں نکل سکتی کیونکہ اس ملک کے باشندوں میں ہم احمدیت کا بیج بو چکے ہیں۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے ان باتوں کی طرف تبھی توجہ پیدا ہوسکتی ہے جب جماعت کے دوست اکٹھے ہوں اور وہ تمام حالات پر غور کرنے کی عادت ڈالیں کیونکہ آپس میں بار بار ملنے سے یہ باتیں سوجھتی ہیں۔اگر ملنے کے مواقع نہ نکالے جائیں اور ایک دوسرے کے حالات سے واقفیت پیدا نہ کی جائے تو جماعت ترقی نہیں کر سکتی۔غرض ایک دوسرے سے ملنے اور مرکزی مقامات