خطبات محمود (جلد 32) — Page 29
$1951 29 خطبات محمود ترک کر دی جائے تو کئی اہم نتائج سے انسان محروم ہو جاتا ہے۔مثلاً یہی بات دیکھ لو کہ علاقہ سندھ کا ہے اور اکٹھے پنجابی ہوئے ہیں اس کے معنے یہ ہیں کہ ہم نے اس صوبہ میں قطعاً کوئی تبلیغ نہیں کی۔پنجابی احمدیوں کی زیادتی سے یہ ملک فتح نہیں ہو سکتا۔یہ ملک اُسی وقت فتح ہو سکتا ہے جب سندھیوں کی اکثریت احمدیت میں شامل ہو گی۔اگر ہم سندھیوں کو اپنے اندر شامل نہیں کرتے اور پنجابی اس صوبہ میں پندرہ یا بیس فیصدی بھی آجاتے ہیں تب بھی ہماری فتح نہیں کہلا سکتی۔ہماری فتح تبھی کہلائے گی جب اسی فیصدی سندھیوں میں سے ایک غالب اکثریت کو ہم اپنے ساتھ شامل کر لیں گے۔اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو یہ یقینی بات ہے کہ جن لوگوں کا یہ ملک ہے انہیں کی بات یہاں چلے گی۔اگر کچھ عرصہ کے لیے پنجابیوں کوغلبہ بھی ملے تو وہ عارضی غلبہ ہوگا۔جیسے انگریز آیا اور اس نے ہندوستان پر حکومت کی مگر اب وہ کہیں نظر نہیں آتا۔جس طرح تم پہلے انگریز کو دیکھ کر ڈرا کرتے تھے اُسی طرح اب وہ تمہیں دیکھ کر ڈرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ حکومت تمہاری ہے۔بلکہ ابھی تو کچھ نہ کچھ انگریزوں کا لحاظ کیا جاتا تو ہے کیونکہ لوگوں کو یہ خیال آجاتا ہے کہ یہ انگریز ہمارے حاکم رہ چکے ہیں ہمیں ان کا خیال رکھنا چاہیے۔جب نئی نسل پیدا ہوگی اور وہ لوگ جو انگریز کو حکمران دیکھ چکے ہیں فوت ہو جائیں گے تو انگریز کی حیثیت ایسی گر جائے گی کہ جس طرح شروع زمانہ میں انگریز ایک ہندوستانی کوٹھڈے مارتا تھا اور وہ خاموش ہو جاتا تھا اُسی طرح ایک پاکستانی انگریز کوٹھڈے مارے گا اور وہ آگے سے یہی کہے گا کہ مجھ سے غلطی ہو گئی ہے مجھے معاف کیا جائے کیونکہ حکومت تمہاری ہے اور اس کی حیثیت ایک غیر ملکی کی ہے۔اسی طرح تم کتنے بھی بڑھ جاؤ پنجابی بہر حال پنجابی ہیں وہ سندھی نہیں کہلا سکتے۔اور یہ ملک سندھ کا ہے اس وجہ سے حکومت کا حق بھی سندھ کے لوگوں کو ہی ہے۔اگر پنجابی یہاں مربعے زیادہ خرید لیں یا تجارتوں پر قبضہ کر لیں یا مال و دولت میں ترقی کر جائیں تب بھی ان کا رتبہ محض عارضی ہوگا اور جب بھی سندھی زور میں آئیں گے انہیں باہر نکال دیں گے۔پس جب تک تم سندھیوں میں احمدیت کی تبلیغ نہیں کرتے یا جب تک تم ان کے ساتھ اس طرح مل جل نہیں جاتے کہ تمہارا تمدن بھی سندھی ہو جائے ، تمہارے کپڑے بھی سندھیوں جیسے ہو جائیں تمہاری زبانیں بھی سندھی ہو جا ئیں اُس وقت تک تمہاری حیثیت محض ایک غیر ملکی کی رہے گی۔ی کتنی واضح چیز ہے جو نظر آرہی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کتنے آدمی ہیں جنہوں نے اس حقیقت پر کبھی غور