خطبات محمود (جلد 32) — Page 190
$1951 خطبات محمود 190 اس تعلیم پر عمل کیا ہے لیکن یہ چیز قومی کریکٹر کے طور پر جماعت میں نہیں ملتی۔گاڑی میں لوگ بیٹھتے ہیں تو وہ نئے آنے والوں کو جگہ نہیں دیتے۔اگر کسی نے ڈبہ ریز رو کرایا ہوا ہو۔مثلاً اُس کے ساتھ عورتیں ہیں اور وہ نہیں چاہتا کہ کوئی غیر مرد اس ڈبہ میں داخل ہو اور وہ ڈبہ ریز رو کر الیتا ہے تو دوسروں کا حق نہیں کہ وہ اُس ڈبہ میں داخل ہوں لیکن دوسرے ڈبوں میں بھی یہ حالت ہوتی ہے کہ اگر کسی ڈبہ میں دو افراد بیٹھے ہیں تو اُن کی انتہائی کوشش یہی ہوگی کہ وہ دوہی رہیں اور اس کے لیے وہ عجیب عجیب حرکات کی کریں گے۔دروازوں کے آگے سامان رکھ دیں گے، کوئی اسٹیشن آئے گا تو کھڑکیاں بند کر لیں گے اور چادر تان کر لیٹ جائیں گے۔حالانکہ تمدن کے معنے ہی یہ تھے کہ ہر شخص دوسرے کا خیال رکھے اور مومنانہ شان بھی یہی ہے کہ جہاں خدا تعالیٰ نے اُسے حق دیا ہے مثلاً کوئی سرکاری افسر ہے اُس کے لیے علیحدہ ڈبہ ہے یا کسی نے کسی خاص مقصد کے لیے کوئی ڈبہ ریز رو کرایا ہو تو کسی دوسرے کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اُس میں داخل ہو۔لیکن جب وہ ایک عام ڈبہ میں بیٹھتا ہے تو اس پر فرض ہے کہ وہ بعد میں آنے والوں کو جگہ دے۔وہ خود تکلیف برداشت کرے لیکن دوسروں کو تکلیف نہ دے۔مجھے صرف ایک مثال یاد ہے کہ پہلے بیٹھے ہوئے نے نئے آنے والے کو جگہ دے دی اور وہ بھی نہایت تلخ مثال ہے اور دوبارہ خواہش نہیں ہوئی کہ ایسا ہو۔خص حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں ایک دفعہ میں امرتسر سے گاڑی پر سوار ہوا۔دیوالی کا موسم تھا۔گاڑی میں رش زیادہ تھا۔مجھے جگہ نہ ملی اور میں کھڑا ہو گیا۔ایک شخص نے مجھے زور سے کہا آئے تشریف لائیے اور دوسرے لوگوں کو کہا کہ یہ شریف آدمی ہیں ان کے لیے جگہ چھوڑ دو۔پھر ایک شخ سے کہنے لگا اٹھو! یہاں سے تم ان کے لیے جگہ کیوں نہیں چھوڑتے ؟ اُس کے رویہ سے مجھے یوں محسوس ہوا کہ وہ شخص مجھے پہچانتا ہے۔چنانچہ لوگ سمٹ گئے اور تھوڑی سی جگہ نکل آئی جہاں میں بیٹھ گیا۔وہ پھر کہنے لگا میں آپ کی کیا خدمت کروں۔بوتل منگواؤں ، چائے منگواؤں ؟ میں نے کہا نہیں نہیں مجھے اس وقت کوئی ضرورت نہیں۔لیکن وہ تھا کہ برابر دہرائے جارہا تھا کہ میں آپ کی کیا خدمت کروں؟ بوتل منگوا ؤں، چائے منگواؤں؟ وہ ابھی اس قسم کی باتیں کر رہا تھا کہ ایک اور شخص ڈبہ میں داخل ہوا۔اُس کے آتے ہی وہ کہنے لگا آئے تشریف لائے۔اس کے لیے جگہ چھوڑ دو۔اور میری طرف سے اس نے منہ پھیر لیا۔بھیٹر بہت زیادہ تھی اور لوگ سمٹ کر بیٹھے ہوئے تھے۔آخر وہ جگہ کہاں سے نکالتے۔