خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 191

$1951 191 خطبات محمود جب کوئی جگہ نہ نکلی تو اُس نے ایک شخص سے کہا بڑے بے شرم ہو! ایک شریف آدمی کھڑا ہے اور تم سے جگہ نہیں دیتے۔اس پر وہ گھبرا کر کھڑا ہو گیا۔میں نے کہا یہ عجیب آدمی ہے کہ خود آرام سے بیٹھا ہے اور دوسروں سے کہہ رہا ہے انہیں جگہ دو۔بعد میں پتا لگا کہ وہ اُس وقت شراب پیئے ہوئے تھا۔غرض یہ ایک ہی واقعہ مجھے یاد ہے کہ جب ریل میں بیٹھے ہوئے کسی نے بعد میں آنے والے سے کہا ہو کہ آؤ اور یہاں بیٹھ جاؤ۔اور یہ واقعہ بھی ایک شرابی کا ہے وہ عقلمند نہیں تھا حالانکہ چاہیے تھا کہ عظمند لوگ اس طرح کرتے۔یورپ میں ہم ایک دفعہ انڈر گراؤنڈ ریلوے میں سفر کر رہے تھے کہ ایک عورت آئی۔گاڑی میں رش زیادہ تھا۔میں نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ اسے گاڑی میں بٹھا لو۔چنانچہ انہوں نے اُس عورت کو گاڑی میں بٹھا لیا اور وہ منون بھی ہوئی مگر ایک شخص نے پاس سے کہا آپ نے اسے جگہ کیوں دی ہے؟ پہلے جب عورتیں آتی تھیں تو ہم جگہ چھوڑ دیتے تھے لیکن اب یہ کہتی ہیں کہ عورت اور مرد برابر ہیں اس لیے اب ہم انہیں جگہ نہیں دیتے۔ہم کہتے ہیں جس طرح ہم کھڑے رہتے ہیں اُسی طرح تم کھڑی رہو۔میں نے کہا یہ آپ کے آپس کے جھگڑے ہیں ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں۔ہم تو مسافر ہیں۔لیکن اب بھی شرفاء میں یہ خوبی پائی جاتی ہے کہ جب کوئی بعد میں سوار ہو تو وہ خود تکلیف برداشت کر لیتے ہیں اور دوسرے کو جگہ دے دیتے ہیں۔لیکن ہمارے ملک میں کوشش کی جاتی ہے کہ جتنا دھوکا کوئی شخص دے سکے دے۔ہمارے ایک احمدی بزرگ تھے۔وہ نیک آدمی تھے لیکن پرانی عادات آہستہ آہستہ جاتی ہیں۔وہ بڑے فخر سے اپنا ایک واقعہ سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ میں ریل میں سوار ہوا۔غریب آدمی تھا، پرانے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور کندھے پر ایک پھٹی پرانی چادر تھی۔میں کمرے میں گھسا لیکن کسی شخص نے مجھے جگہ نہ دی۔میرے پاس بعض ہندو بیٹھے ہوئے تھے۔میں نے انہیں کہا ذرا کپڑے بچا کر رکھنا بھرشٹ 3 نہ ہو جائیں۔وہ جھٹ پرے ہو گئے اور اس طرح تھوڑی سی جگہ نکل آئی جہاں میں بیٹھ گیا۔جب میں وہاں بیٹھا تو ساتھ والا ہند و اُٹھ بیٹھا۔میں نے ذرا اور پاؤں پھیلائے تو تیسرا ہندو بھی اٹھ بیٹھا۔اسی طرح جب میں نے اور ٹانگیں پھیلا ئیں تو دوسرے ہندو بھی اٹھ بیٹھے اور سیٹ خالی ہوگئی اور میں آرام سے لیٹ گیا۔انہوں نے بتایا کہ مجھے ایک شخص نے کہا اسی کون ہندے او؟