خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 157

$1951 157 خطبات محمود وہ مسولینی نے کتنی تیاریاں کی تھیں لیکن وہ ناکام ہوئے۔انور پاشا اور اس کی پارٹی نے کتنی تیاریاں کی تھیں لیکن وہ ناکام ہوئے اور ایک دھتکارا ہوا شخص مصطفی کمال پاشا آگے آ گیا۔بیشک وہ بھی دینداری نہیں تھا لیکن انور پاشا پر یہ الزام تھا کہ اُس نے ایسے بادشاہ کو جس کے زمانہ میں اسلام نے ترقی کی تھی تھی معزول کیا۔مصطفی کمال پاشا کا یہ قصور نہیں تھا۔اُس نے بیشک خلافت کو تو ڑا لیکن اس نے اس خلافت کو توڑا جس نے پہلے سے قائم شدہ خلافت کو برخواست کیا تھا اور اس کا مقابلہ کیا تھا۔اس لیے وہ باغی سے مقابلہ کرنے والا کہلاتا ہے۔دراصل اس آخری زمانہ میں جو خلافت تھی یہ اصل خلافت نہیں تھی۔اصل خلافت خلفائے راشدین والی خلافت ہی تھی۔سارے مسلمان متفق ہیں کہ خلافت راشدہ حضرت علی پر ختم ہو گئی ہے۔بیشک بعد میں آنے والے بادشاہوں کو بھی خلفاء کہا گیا خلفائے راشدین نہیں تھے۔وہ اس بات سے ڈرتے تھے کہ اگر بادشاہ کو خلیفہ نہ کہا تو پکڑے جائیں گے۔اس لیے انہوں نے پہلی خلافت کو خلافت راشدہ کا نام دے دیا اور اس طرح بادشاہوں کا منہ بند کر دیا۔غرض عام بادشاہوں کو خلیفہ ہی کہا جاتا تھا لیکن جس خلافت کا ذکر قرآن کریم میں ہے وہ مسلمانوں کی اصطلاح میں خلافتِ راشدہ کہلاتی ہے اور اس بات پر سارے مسلمان متفق ہیں کہ خلافت راشدہ حضرت علی پر ختم ہو چکی ہے۔ہاں ! اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد نئے سرے سے قائم ہوئی ہے۔لیکن یہ خلافت روحانی ہے دنیوی سلطنت کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔چونکہ مصطفی کمال پاشا نے ایک باغی کا مقابلہ کیا اس لیے وہ جیت گیا اور انور پاشا اور اُس کی پارٹی ہارگئی۔اس نے ترکی کی پہلی حکومت کو جس میں اسلام کو کچھ نہ کچھ ترقی ہوئی تھی تنزل نہیں ہوا تھا تو ڑنا چاہا۔اس لیے خدا تعالیٰ نے اُسے توڑ دیا۔مصطفی کمال پاشا نے اس حکومت کو دوبارہ کھنڈرات سے قائم کیا۔پھر اس کا نام خلافت نہیں رکھا۔اس نے ایک دنیوی حکومت قائم کر دی جو انور پاشا کی حکومت سے زیادہ بہتر ، مضبوط اور ترکوں اور عربوں کے لیے مضبوطی کا موجب تھی۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے اُس کی مدد کی۔اور ان اللہ تعالیٰ ایسے مواقع پر ہر ایک کی مدد کیا کرتا ہے۔جن لوگوں نے انگریزی تاریخیں پڑھی ہیں اور پھر سارے جھگڑوں کا مطالعہ کیا ہے جو پہلی جنگِ عظیم میں چرچل اور دوسرے وزراء میں پڑ گئے تھے وہ جانتے ہیں کہ دراصل چرچل ہی ترکی میں فوج اتارنے کا ذمہ دار تھا۔انگریزی حکومت نے ترکی میں فوجیں اتار دیں۔ترکی نے اُن کا مقابلہ کیا اور پھر یونانیوں کو جن کو اتحادیوں نے ترکی کے ملک پر