خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 158

$1951 158 خطبات محمود قابض کر دیا تھا گا جر مولی کی طرح کاٹ دیا۔غرض انور اور مصطفی کمال سے دو الگ الگ سلوک بتاتے ہیں کہ سلطان عبدالحمید کے ساتھ ایک حد تک خدائی مدد تھی۔بیشک وہ روحانی بادشاہ نہیں تھا وہ ایک دنیوی بادشاہ تھا لیکن اُس نے اسلام کی خدمت کی۔اس لیے اُس نے خدا تعالیٰ کے فضل کو کھینچ لیا۔اس نے اسلام کی سچے دل سے مدد کی تو خدا تعالیٰ نے بھی اُس کی مدد کی اور ایک طاقت ور دشمن کے مقابلہ میں اسے فتح عطا فرمائی۔پاکستان کے بننے میں بھی خدائی طاقت کا دخل تھا۔جیسا کہ دوستوں کو معلوم ہے کہ اپریل 1947 ء سے پہلے ہماری یہ خواہش تھی کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کا آپس میں سمجھوتہ ہو جائے لیکن غیب کا علم خدا تعالیٰ ہی کو تھا۔ہم سمجھتے تھے کہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں جب صلح ہو جائے گی تو ان میں محبت اور پیار پیدا ہو جائے گا اس لیے ہندو مسلمانوں پر ظلم نہیں کریں گے۔لیکن خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ خواہ کچھ کی کر لو یہ قوم اسلام کی دشمنی سے باز نہیں آئے گی ، اس لیے اس نے ایسی تدبیر کی اور ایسے جھگڑوں کے سامان پیدا کر دیئے کہ جن سے مسٹرمحمد علی جناح صاحب جو بعد میں قائد اعظم کہلائے اُن کے دل میں یہ بات راسخ ہو گئی کہ ہندو مسلمانوں سے صلح پر تیار نہیں۔چنانچہ مئی میں جا کر یہ بات کھل گئی کہ ہندوؤں سے صلح بر کار ہے پاکستان ضرور بنے گا۔بیشک عقلی طور پر ہم کہتے تھے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں صلح ہو جانی چاہیے اور اس طرح ملک کو متحد رہنا چاہیے لیکن خدا تعالیٰ عالم الغیب تھا۔وہ جانتا تھا کہ ہماری رائے درست نہیں۔مسلمانوں کو بالجبر ہندو بنایا جائے گا اور سومناتھ مندر 1 کی دوبارہ تعمیر ہوگی۔اس لیے خدا تعالیٰ نے پسند نہ کیا کہ اُس کے بندے کعبہ کی بجائے سومناتھ کے آگے جھکیں اُس نے پاکستان قائم کروا دیا۔اور پھر ایسے حالات میں پاکستان قائم کروا دیا کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن جو اس تمام واقعہ کا ذمہ دار ہے اور ایک ایسا شخص ہے جس کی گردن پر لاکھوں مسلمانوں کے قتل کا گناہ ہے جب مشرقی پنجاب کے لوگ مارے گئے ہند و تمام روپیہ لے کر ہندوستان چلے گئے، ملکی صنعت پر ہندوؤں نے قبضہ کر لیا تو اس نے کہا خدایا! میں یہ تو جانتا تھا کہ پاکستان ٹوٹ جائے گا لیکن یہ نہیں جانتا تھا کہ اتنی جلدی ٹوٹ جائے گا لیکن خدا تعالیٰ نے اُس کو شر مندہ کیا۔اب اُسے یورپین شطرنج کی چالوں میں موقع دیا جاتا ہے لیکن مسلمان جب اُس کا نام سنتے ہیں تو اس کے حق میں دعا ئیں نہیں کرتے۔جس شخص کے افعال کی وجہ سے لاکھوں مسلمان مارے گئے خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہی اُسے